ایکنا نیوز- اللہ تعالیٰ انسانوں سے مدد طلب کرتا ہے، حالانکہ آسمانوں اور زمین کے لشکر اس کے حکم کے تابع ہیں اور وہ خود غالب اور حکمت والا ہے:
«وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ» (آل عمران: 126).
اور مدد تو صرف اللہ ہی کی طرف سے ہے جو غالب اور حکمت والا ہے۔
اللہ کی طرف سے مدد طلب کرنا، ایک محدود مخلوق یعنی انسان سے، دراصل اسے ترغیب دینے اور آزمانے کے لیے ہے؛ اور اگر وہ اس آزمائش میں کامیاب ہو جائے تو اسے اجر و ثواب عطا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، جب میدانِ جنگ میں لشکر بھیجنے کی بات آتی ہے تو ابتدا میں فرمایا جاتا ہے: «قَاتِلُوهُمْ يُعَذِّبْهُمُ اللَّهُ بِأَيْدِيكُمْ» (توبه: 14) یعنی دشمن سے لڑو، اللہ تمہارا مددگار ہے اور تمہارے ہاتھوں کافروں کو عذاب دے گا۔
لیکن جب مجاہدین میدانِ جنگ میں اترتے ہیں اور اللہ کی قدرت کے آثار کا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ بلند تر معرفت حاصل کرتے ہیں؛ لہٰذا قرآن کا اندازِ بیان بھی زیادہ عمیق ہو جاتا ہے اور فرماتا ہے: «فَلَمْ تَقْتُلُوهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ قَتَلَهُمْ» (انفال: 17)؛ تم نے انہیں قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کیا۔ یعنی تم نے کافروں کو نہیں مارا بلکہ اللہ ہی تھا جس نے میدانِ جنگ کے امور کو سنبھالا اور کافروں کو نیست و نابود کیا۔
پس ابتدا میں مجاہدین کو ابھارنے اور حرکت میں لانے کے لیے کہا جاتا ہے: جنگ کرو، اللہ تمہاری مدد کرے گا۔ لیکن جب وہ اللہ کی دعوت قبول کر لیتے ہیں تو اس عملِ صالح کا اجر انہیں "توحیدِ افعالی" کی معرفت کی صورت میں عطا کیا جاتا ہے۔
توحیدِ افعالی کی معرفت وہ اعلیٰ ترین انعام ہے جو اللہ تعالیٰ ثابت قدم مجاہد کو عطا کرتا ہے؛ یعنی یہ یقین کہ اللہ ہی ان کا ولی اور ہر کام کا مالک و مختار ہے۔ یہاں تک کہ جو تیر کمان سے چھوڑا جاتا ہے، وہ بھی مجاہد کے اختیار میں نہیں ہوتا بلکہ اللہ تعالیٰ ہی اسے نشانے تک پہنچاتا ہے: «وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى»(انفال: 17).
اور (اے نبی!) تم نے (حقیقت میں) نہیں پھینکا جب تم نے پھینکا، بلکہ اللہ نے پھینکا۔