ایکنا نیوز- قرآنِ کریم دین (قرآن اور اہلِ بیت) کے محور کے گرد اتحاد کا حکم دیتا ہے: «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» اور دلوں کے درمیان محبت پیدا کرنے کو صرف اللہ کے اختیار میں قرار دیتا ہے: «فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ» (آل عمران: 103)
قرآنِ کریم سورۂ انفال کی آیت 63 میں بھی پیغمبرؐ سے خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ اگر آپ زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر دیتے تو ان کے دلوں میں الفت پیدا نہ کر سکتے، لیکن اللہ نے یہ کام کر دکھایا: «لَوْ أَنْفَقْتَ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا مَا أَلَّفْتَ بَيْنَ قُلُوبِهِمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ أَلَّفَ بَيْنَهُمْ إِنَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ»
آیتِ شریفہ «وَأَعِدُّوا لَهُم مَا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ» عمومی معنی رکھتی ہے اور ہر اُس چیز کو شامل ہے جو فوجی طاقت کو مضبوط بناتی ہے۔ طاقت کے اہم عناصر میں سے ایک قومی اتحاد اور دشمنوں کے مقابلے میں تفرقہ و انتشار سے دوری ہے۔ بکھری ہوئی قوم، چاہے اس کے پاس مضبوط فوجی قوت ہی کیوں نہ ہو، کمزوری کا شکار رہتی ہے، اور ان کے باہمی اختلافات ان کی سستی اور طاقت کے زوال کا سبب بنتے ہیں۔ جیسا کہ قرآنِ کریم فرماتا ہے: «وَلَا تَنَازَعُوا فَتَفْشَلُوا وَتَذْهَبَ رِيحُكُمْ» (انفال: 46)
اگرچہ ایرانِ اسلامی کے دشمن مختلف منصوبوں اور فتنوں، جن میں گذشتہ مہینوں کی ایک قسم کی نیم بغاوت بھی شامل تھی، کے ذریعے اختلاف پیدا کرنے اور جنگ کی آگ کو شہروں کے اندر لانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن اللہ کی تدبیر ان پر غالب آئی۔ انقلابِ اسلامی کے رہبر کی اپنے دفتر میں شہادت کے بعد، ولایت کے پیروکار عوام جوش میں آ گئے، انہوں نے شہر کی سڑکوں پر قبضہ کر لیا اور دشمنوں کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔