
ایکنا نیوز کے مطابق احمد ابوالقاسمی، جو بین الاقوامی قرآنی مقابلوں کے قاری اور جج ہیں اور ٹی وی پروگرام «محفل» کے چار سیزنز کے میزبان بھی رہ چکے ہیں، اس شخص (یعنی مشاری راشد العفاسی) کے غیر ذمہ دارانہ اور اس کے منصب کے خلاف بیانات کے بارے میں کہتے ہیں: دنیا بھر کے بڑے دینی شخصیات اور معروف قراء جو ایسے مواقع پر خاموش رہتے ہیں، ان پر بحث الگ ہے؛ لیکن جو بات انتہائی قابلِ مذمت ہے وہ بعض لوگوں کے بے ربط اور منافقانہ بیانات ہیں۔
بدقسمتی سے مشاری العفاسی جیسے افراد، باوجود اس کے کہ وہ حقیقت سے آگاہ ہیں، بے شرمانہ بیانات کے ذریعے ایران پر حملے اور عوام کے قتلِ عام کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ لوگ واضح طور پر نفاق میں مبتلا ہیں۔
میں تاکید کرتا ہوں کہ کسی بھی صورت ایسے منافق افراد کی باتوں اور ان کی تلاوتِ قرآن کو نہ سنا جائے۔ اگر کوئی شخص کسی وجہ سے تشویش میں ہے تو وہ خاموش رہ سکتا ہے، لیکن یہ منافق لوگ نہ صرف خاموش نہیں رہتے بلکہ کھلم کھلا ہمارے ملک اور قوم کے خلاف اقدام کا مطالبہ کرتے ہیں۔ ایسے لوگ لعنت کے مستحق ہیں۔
تاہم، قراء اور وہ لوگ جو قرآن کی تلاوت کرتے ہیں، انہیں جہاد کے محاذِ اول میں ہونا چاہیے، چاہے وہ میدانِ جنگ میں جسمانی جہاد ہو یا جہادِ تبیین۔ جو لوگ دوسروں کو قرآن سے روشناس کراتے ہیں، انہیں چاہیے کہ وہ جہاد اور مقاومت کی آیات کو بھی عوام کے لیے واضح کریں۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ قرآن میں سو سے زائد آیات براہِ راست ہمیں جہاد اور مقاومت کی دعوت دیتی ہیں۔ ان آیات کو لوگوں کے سامنے پڑھا اور واضح کیا جانا چاہیے۔”
یاد رہے کہ مشاری راشد العفاسی کی جانب سے ایک متنازع ٹویٹ کے بعد، جس میں انہوں نے امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کہا کہ ایران پر جہنم کے دروازے کھول دیے جائیں، ایران اور دنیا بھر کے مسلم اور قرآنی حلقوں میں شدید تنقید کی لہر پیدا ہو گئی ہے۔