
ایکنا نیوز کے مطابق، ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے اکاؤنٹ میں دعویٰ کیا کہ پاپ لیو جرم و جنایت کے مقابلے میں کمزور ہیں اور خارجہ پالیسی میں ان کی کارکردگی تباہ کن ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پاپ "ٹرمپ حکومت کے خوف" کی وجہ سے بات کر رہے ہیں، مگر انہوں نے اس خوف کا کوئی ذکر نہیں کیا جو کیتھولک چرچ اور دیگر مسیحی اداروں نے کورونا کے دوران محسوس کیا تھا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ وہ پاپ کے بھائی لوئیس کو خود پاپ سے زیادہ پسند کرتے ہیں، اور کہا: میں ایسا پاپ نہیں چاہتا جو امریکہ کے وینزویلا پر حملے کو نہایت خوفناک قرار دے یا امریکہ کے صدر پر اس حوالے سے تنقید کرے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاپ لیو دراصل پاپ بننے کے لیے کسی نامزدگی کی فہرست میں شامل ہی نہیں تھے، بلکہ انہیں صرف اس لیے منتخب کیا گیا کہ وہ امریکی ہیں، اور چرچ کا خیال تھا کہ یہ انتخاب امریکہ کے صدر کا مقابلہ کرنے کا بہترین طریقہ ہوگا۔
امریکی صدر نے آخر میں کہا کہ اگر وہ وائٹ ہاؤس میں نہ ہوتے تو پاپ لیو چہاردہم بھی ویٹیکن میں نہ ہوتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جرم و جنایت اور ایٹمی ہتھیاروں کے مقابلے میں لیو کی کمزوری ان کے لیے ناقابل قبول ہے۔
دوسری جانب، دنیا بھر کے کیتھولک مسیحیوں کے رہنما پاپ لیو چہاردہم نے اس سے قبل ایران کے خلاف جنگ کے بارے میں سخت ترین مؤقف اختیار کرتے ہوئے “مطلق طاقت کے وہم” کو امریکہ اور صہیونی رژیم کی مشترکہ جنگ کا سبب قرار دیا اور امن کے قیام کا مطالبہ کیا تھا۔
پاپ لیو چہاردہم کا کہنا تھا: خود پرستی اور دولت پرستی کافی ہو چکی! طاقت کا مظاہرہ بس! جنگ بند کرو!”
انہوں نے اپنے اب تک کے سخت ترین بیان میں "مطلق طاقت کے وہم" کی مذمت کی، جو امریکہ اور صہیونی رژیم کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کو بھڑکا رہا ہے، اور سیاسی رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے روکیں اور امن کے لیے مذاکرات کریں۔
اگرچہ انہوں نے اپنی دعا میں امریکہ یا ڈونلڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا، تاہم ان کے لہجے اور پیغام سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ امریکی حکام کی جانب اشارہ کر رہے ہیں، جو امریکہ کی فوجی برتری پر فخر کرتے ہوئے جنگ کو مذہبی اصطلاحات کے ذریعے جواز فراہم کرتے ہیں۔