نیویارک ٹائمز مقالہ؛ ٹرمپ کی نفسیاتی حالت مشکوک

IQNA

نیویارک ٹائمز مقالہ؛ ٹرمپ کی نفسیاتی حالت مشکوک

9:33 - April 18, 2026
خبر کا کوڈ: 3520139
امریکی اخبار نے امریکی صدر کے غیر متوازن رویّوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ٹرمپ کے بدلتے مزاج اور انتہا پسندانہ بیانات نے ان کی ذہنی صحت کے بارے میں بحث کو حتیٰ کہ ان کے حامیوں اور سابق ساتھیوں کے درمیان بھی دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

ایکنا نیوز- نیویارک ٹائمز نے امریکی صدر کے غیر معقول اور بے ربط بیانات اور غیر متوازن طرزِ عمل جس میں ایران کی تہذیب کو ایک رات میں تباہ کرنے کی دھمکی اور پوپ پر زبانی حملہ شامل ہے، کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ حتیٰ کہ ان کے بعض سابق اتحادی اور مشیر بھی یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا وہ تیزی سے عدم توازن کا شکار ہو رہے ہیں؟ کچھ لوگ انہیں "دیوانہ" بھی قرار دے رہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، حالیہ دنوں اور ہفتوں میں صدر ٹرمپ کے بے قاعدہ رویّے اور انتہا پسندانہ بیانات نے ان کے دیوانہ ہونے سے متعلق اس بحث کو مزید تیز کر دیا ہے جو گزشتہ ایک دہائی سے امریکی سیاست میں زیرِ بحث ہے۔

اس امریکی اخبار کے مطابق، درحقیقت ان کے منتشر، ناقابلِ فہم اور بعض اوقات غیر شائستہ بیانات کا مجموعہ، جو حالیہ دنوں میں پوپ لیو چہاردم پر حملے سے مزید واضح ہوا، بہت سے لوگوں کو اس نتیجے تک پہنچا رہا ہے کہ وہ ایک طاقت کے دلدادہ اور دیوانہ آمر ہیں۔

اگرچہ وائٹ ہاؤس ان تجزیوں کو مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کرتا ہے کہ ٹرمپ زیرک ہیں اور اپنے مخالفین کو چوکنا رکھتے ہیں، تاہم صدر کے اچانک طغیانی رویّے جنگ کے وقت امریکہ کی قیادت کے بارے میں سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔

اگرچہ اس سے پہلے بھی امریکہ میں ایسے صدور گزر چکے ہیں جن کی صلاحیت پر سوال اٹھائے گئے، جن میں جوبائیڈن بھی شامل ہیں، جو اسی سال کی دہائی میں عوام کے سامنے غیر معمولی رویّے دکھاتے رہے، لیکن کسی امریکی صدر کے استحکام پر اس قدر کھلے عام اور اتنے گہرے اثرات کے ساتھ بحث کبھی نہیں ہوئی۔

ڈیموکریٹس، جو طویل عرصے سے ٹرمپ کی ذہنی صحت پر سوال اٹھاتے آ رہے ہیں، اب آئین کی پچیسویں ترمیم کے تحت انہیں نااہلی کی بنیاد پر عہدے سے ہٹانے کے لیے نئی اپیلیں کر رہے ہیں۔ تاہم یہ تشویش صرف بائیں بازو، ٹی وی کامیڈینز یا دور سے تشخیص کرنے والے ماہرینِ نفسیات تک محدود نہیں، بلکہ یہ آوازیں ریٹائرڈ جرنیلوں، سفارتکاروں اور غیر ملکی حکام میں بھی سنائی دے رہی ہیں، اور سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ اب یہ آوازیں دائیں بازو کے حلقوں میں، حتیٰ کہ صدر کے سابق اتحادیوں میں بھی سنائی دینے لگی ہیں۔

مثال کے طور پر، ٹیلر گرینا، جو ریاست جارجیا سے ریپبلکن رہنما ہیں، نے آئین کی پچیسویں ترمیم کے استعمال کی حمایت کرتے ہوئے CNN سے گفتگو میں کہا کہ ایران کی تہذیب کو تباہ کرنے کی دھمکی محض سخت بیان بازی نہیں بلکہ دیوانگی ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، ٹرمپ کی ذہنی صحت سے متعلق کچھ سوالات ان افراد کی جانب سے بھی اٹھائے جا رہے ہیں جو کبھی ان کے ساتھ کام کرتے تھے اور اب ان کے ناقد بن چکے ہیں۔ ٹائی کوب ، جو ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کے وکیل تھے، نے حال ہی میں کہا کہ امریکی صدر واضح طور پر ایک دیوانہ شخص ہیں، اور سوشل میڈیا پر ان کی حالیہ جارحانہ پوسٹس ان کی ذہنی کیفیت کو مزید نمایاں کرتی ہیں۔

اسی دوران، ایسا لگتا ہے کہ امریکی عوام بھی اسی طرح کی رائے رکھتے ہیں۔ رائٹرز اور Ipsos کے فروری میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق 61 فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ ٹرمپ عمر بڑھنے کے ساتھ زیادہ غیر مستقل مزاج ہو گئے ہیں۔

4346473

نظرات بینندگان
captcha