ایکنا نیوزکی رپورٹ کے مطابق، جو ملائیشیا میں اسلامی جمہوریہ ایران کے ثقافتی مرکز کے تعلقاتِ عامہ کے حوالے سے نقل کی گئی، یہ اہم سفارتی و ثقافتی تقریب ایرانی ثقافتی مرکز اور ملایشین کونسل (MAPIM) کے مشترکہ تعاون سے International Institute of Advanced Islamic Studies (IAIS) کے کانفرنس ہال میں منعقد ہوئی۔
اس تقریب میں ملائیشیا میں ایران کے سفیر ولیالله محمدی، ماپیم کے سربراہ محمد عزمی عبدالحمید، ایران کے ثقافتی اتاشی حبیب رضا ارزانی کے علاوہ مختلف ممالک کے سفرا جن میں روس اور وینزویلا کے سفرا بھی شامل تھے، سفارتکار، ماہرینِ تعلیم اور مسلم اسٹریٹجک شخصیات نے شرکت کی۔
اس نشست کا مرکزی موضوع اس کتاب کے اسٹریٹجک پہلوؤں کا جائزہ لینا تھا، جو “ انقلاب اسلامی کے بیانیہ کی سمت دوسرے قدم” کو عالمِ اسلام کے لیے واضح کرتی ہے۔
حبیب رضا ارزانی نے اپنے خطاب میں اس کتاب کو امتِ مسلمہ کے لیے چالیس سالہ فکری نمونہ (پیراڈائم) قرار دیا اور جدید اسلامی تہذیب کے قیام کے لیے رہبرِ شہید کی فکر کے سات بنیادی ستون بیان کیے، جن میں شامل ہیں: علم و تحقیق، روحانیت و اخلاق، معیشت، عدل اور انسدادِ بدعنوانی، استقلال و آزادی، بین الاقوامی تعلقات میں قومی وقار، اور اسلامی طرزِ زندگی،
اس نشست کے ملائیشیائی مقررین، جن میں محمد عزمی عبدالحمید اور بدری عبداللہ (IAIS کے نائب سربراہ) شامل تھے، نے رہبرِ شہید کے بلند مقام کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اس کتاب کو محض ایک یادگار نہیں بلکہ عملی اقدام کی دعوت قرار دیا۔
یہ کتاب انگریزی زبان میں ترجمہ ہونے کے بعد "انتشارات الهدی" کی جانب سے ملائیشیا میں، ایران کے ثقافتی مرکز اور ماپیم کے مشترکہ تعاون سے 422 صفحات پر مشتمل شائع کی گئی۔
4346584