آسیه سے زینب (س) تک؛ قرآن خواتین کو نمونہ کیوں پیش کرتا ہے؟

IQNA

آسیه سے زینب (س) تک؛ قرآن خواتین کو نمونہ کیوں پیش کرتا ہے؟

6:56 - June 18, 2026
خبر کا کوڈ: 3520340
ایکنا: کتاب «سکوی پرواز» میں سورۂ تحریم کی آیات 11 اور 12 کی روشنی میں حق و باطل کی کشمکش میں خواتین کے کردار کو محض ایک حاشیائی حیثیت نہیں بلکہ ایک بنیادی اور فیصلہ کن کردار کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔

ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، الہامی ادیان کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ خواتین ہمیشہ بڑے روحانی اور سماجی انقلابات کے مرکز میں رہی ہیں۔ بعض تحریف شدہ بیانیوں کے برعکس، جو خواتین کے کردار کو پس منظر میں دھکیل دیتے ہیں، قرآنِ کریم متعدد مقامات پر خواتین کو ایمان، استقامت اور معاشرتی تبدیلی کی عظیم مثالوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔

کتاب سکوی پرواز میں محرم کے دوسرے فکری پیغام کا مرکزی نکتہ یہی قرآنی حقیقت ہے کہ خواتین "ترکیبی جنگ" (Hybrid Warfare) کی علمبردار ہیں۔ اس کے مطابق ارادوں کی جنگ اور ادراکی و فکری معرکوں میں خواتین کا کردار بہت سے دیگر میدانوں سے زیادہ فیصلہ کن ہوتا ہے اور اسلامی حوالے سے خواتین کا کردار فرعون کی زوجہ حضرت آسیہؑ اور حضرت مریمؑ سے شروع ہو کر واقعۂ عاشورا میں حضرت زینبؑ کی علمبرداری کے ذریعے اپنے عروج کو پہنچتا ہے۔

تمام مؤمنین کے لیے قرآنی نمونہ

اس پیغام کی بنیاد سورۂ تحریم کی آیات 11 اور 12 ہیں، جن میں اللہ تعالیٰ تاریخ کی دو عظیم خواتین کو تمام اہلِ ایمان کے لیے نمونہ قرار دیتا ہے:

"وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَةَ فِرْعَوْنَ..."

اور

"وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ..."

قابلِ غور بات یہ ہے کہ قرآن ان دونوں خواتین کو صرف مؤمن خواتین کا نمونہ قرار نہیں دیتا بلکہ تمام مؤمنین کے لیے مثال کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ قرآن کی نگاہ میں فضیلت کا معیار جنس نہیں بلکہ ایمان، استقامت اور حق کے ساتھ وفاداری ہے۔

حضرت آسیہؑ؛ فرعون کے محل میں استقامت کی مثال

فرعون کی زوجہ کو ایسے حالات میں ایمان کی مثال قرار دیا گیا جب وہ تاریخ کی ایک انتہائی ظالم اور سرکش حکومت کے قلب میں زندگی گزار رہی تھیں۔ ظلم، شرک اور استکبار سے بھرپور ماحول کے باوجود انہوں نے حق کا راستہ اختیار کیا اور اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے شدید ترین اذیتیں برداشت کیں۔

یہ نمونہ اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ انسان پیچیدہ ترین سیاسی اور ثقافتی حالات میں بھی اپنے ایمان اور الٰہی تشخص پر ثابت قدم رہ سکتا ہے۔

حضرت مریمؑ؛ پاکیزگی اور ثابت قدمی کی علامت

قرآن کا دوسرا نمونہ حضرت مریمؑ ہیں، جنہوں نے سماجی دباؤ، تہمتوں اور بے شمار مشکلات کے باوجود بندگیِ خدا کے راستے کو ترک نہیں کیا۔

قرآنی منطق میں حضرت مریمؑ پاکدامنی، وعدۂ الٰہی پر اعتماد اور معاشرتی دباؤ کے مقابلے میں استقامت کی علامت ہیں۔ یہ وہ اوصاف ہیں جن کی ہر مؤمن معاشرے کو اپنی شناخت کے تحفظ کے لیے ضرورت ہوتی ہے۔

عاشورا اور خواتین کا بے مثال کردار

تاریخِ اسلام کے واقعات میں شاید ہی کوئی واقعہ عاشورا کی طرح خواتین کے فیصلہ کن کردار کو واضح کرتا ہو۔ اگر حضرت امام حسینؑ نے اپنے خون سے تحریک کو زندہ رکھا تو حضرت زینبؑ نے حقائق کی ترجمانی اور جہادِ تبیین کے ذریعے اسے ہمیشہ کے لیے زندہ جاوید بنا دیا۔

بہت سے محققین کا خیال ہے کہ اگر کوفہ اور شام میں حضرت زینبؑ کے بیدار کن خطبات نہ ہوتے تو اموی حکومت اپنے تحریف شدہ بیانیے کو عوامی افکار پر مسلط کرنے میں کامیاب ہو سکتی تھی۔

اسی لیے عاشورا نے ثابت کیا کہ خواتین صرف میدان کے کنارے موجود نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات ایک تحریک کی کامیابی اور بقا ان کے کردار سے وابستہ ہوتی ہے۔

مسلمان خاتون کا تیسرا نمونہ

اس پیغام میں ایک اہم تصور "مسلمان خاتون کا تیسرا نمونہ" بھی ہے۔ یہ ایسا نمونہ ہے جو نہ عورت کو معاشرے سے کٹا ہوا اور گوشہ نشین بناتا ہے اور نہ ہی اسے صارفیت پسند ثقافت کی ایک شے میں تبدیل کرتا ہے۔

اس نقطۂ نظر کے مطابق مؤمن خاتون اپنی عزت، وقار اور عفت کو برقرار رکھتے ہوئے معاشرے کے قلب میں فعال کردار ادا کرتی ہے، نسلوں کی تربیت کرتی ہے اور سماجی تبدیلیوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔

خلاصہ

سورۂ تحریم کی آیات کی روشنی میں محرم کا دوسرا پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قرآن اور تاریخِ اسلام کی نظر میں خواتین عظیم سماجی و دینی تبدیلیوں کی اہم معمار رہی ہیں۔ حضرت آسیہؑ، حضرت مریمؑ اور حضرت زینبؑ نے اپنے کردار سے ثابت کیا کہ ایمان، استقامت اور جہادِ تبیین ایک معاشرے کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اسی لیے خواتین حق و باطل کی کشمکش میں حاشیے پر نہیں بلکہ مرکزی مقام رکھتی ہیں اور بڑی الٰہی تحریکوں کی علمبردار بن سکتی ہیں۔/

 

4356020

نظرات بینندگان
captcha