ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پورے بھارت میں مسلم خواتین اس تلخ حقیقت کا سامنا کر رہی ہیں کہ "ڈیپ فیک" ٹیکنالوجی آن لائن ہراسانی اور بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا کا ایک نیا ہتھیار بن چکی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس بار جعلی مواد اتنا حقیقی دکھائی دیتا ہے کہ حقیقت اور فریب میں تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے تعلق رکھنے والی سمرین ایوب نے جب پہلی مرتبہ اپنی ایک جعلی ویڈیو دیکھی تو وہ شدید صدمے میں مبتلا ہوگئیں۔ گزشتہ سال ان کے ایک دوست نے انہیں انسٹاگرام پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو بھیجی، جو بظاہر دہلی میں ان کی زندگی کی کہانی بیان کر رہی تھی۔ ویڈیو میں راوی کی آواز، سرخیاں اور سب ٹائٹلز کسی ٹیلی ویژن نیوز رپورٹ کی طرح دکھائی دیتے تھے، لیکن درحقیقت وہ مکمل طور پر من گھڑت تھی۔
مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ آواز میں جھوٹا دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ ایک مسلمان خاتون ہیں جو ہندو مردوں کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات رکھتی ہیں۔ ویڈیو میں موجود تصاویر اور افراد کا تعارف بھی غلط انداز میں پیش کیا گیا تھا۔
سمرین ایوب کا کہنا ہے: یہ ویڈیو اس قدر حقیقی لگ رہی تھی کہ اگر میرے والدین سمیت کوئی بھی اسے دیکھتا تو یقین کر لیتا کہ یہ سچ ہے۔
وہ ان متعدد مسلم خواتین میں شامل ہیں جنہیں ایک ایسے رجحان کا سامنا ہے جسے محققین تیزی سے پھیلتا ہوا خطرناک نمونہ قرار دے رہے ہیں۔ اس رجحان میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے خواتین کی جعلی تصاویر اور جنسی نوعیت کا پروپیگنڈا تیار کیا جاتا ہے۔
الجزیرہ نے ایسی کئی مسلم خواتین سے رابطہ کیا جو اس مہم کا نشانہ بن چکی ہیں، تاہم شرمندگی، سماجی دباؤ اور دوبارہ ذہنی اذیت کے خدشے کے باعث انہوں نے براہِ راست گفتگو سے گریز کیا۔
مسلم خواتین کی تصاویر اور ویڈیوز کی جعل سازی کا یہ سلسلہ ایسے وقت میں بڑھ رہا ہے جب بھارت عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے ضابطہ کار اور حکمرانی سے متعلق مباحث میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ رواں سال نئی دہلی میں منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی "اے آئی امپیکٹ سمٹ" میں بھی جدت طرازی اور قانونی و اخلاقی ضوابط پر زور دیا گیا تھا۔
واشنگٹن میں قائم "سینٹر فار دی اسٹڈی آف آرگنائزڈ ہیٹ" (CSOH) کی ایک تحقیق میں مئی 2023 سے مئی 2025 تک سوشل میڈیا پلیٹ فارمز X، فیس بک اور انسٹاگرام کے 297 عوامی اکاؤنٹس سے جمع کیے گئے 1326 مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصاویر اور ویڈیوز کا تجزیہ کیا گیا۔
تحقیق کے مطابق مسلم خواتین کی جنسی نوعیت کی جعلی تصاویر سب سے زیادہ دیکھی گئیں اور مختلف پلیٹ فارمز پر انہیں مجموعی طور پر 67 لاکھ سے زائد مرتبہ دیکھا گیا۔
CSOH کے جمع کردہ ڈیٹا میں ایسے اے آئی سے تیار کردہ میمز بھی شامل ہیں جن میں مسلم خواتین کو مذہبی لباس میں فحش اور جعلی مناظر کے ساتھ دکھایا گیا، جبکہ بعض تصاویر میں صحافیوں اور سماجی کارکنوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ تخلیقی مصنوعی ذہانت (Generative AI) کی تیز رفتار ترقی نے مسلم خواتین کے خلاف آن لائن ہراسانی کی رفتار، وسعت اور اثرات میں غیر معمولی اضافہ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں اسلاموفوبیا اور صنفی بنیادوں پر نفرت انگیز مہمات کو نئی طاقت ملی ہے۔/
4358611