ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) شعبہ باكو كی رپورٹ كے مطابق ،جمہوریہ آذر باﺋيجان میں دينی علوم كے ماہرين نے اس خبر كا اعلان كرتے ہوۓ كہا:اگرچہ اكثر دينی كتب باكو كی كچھ دكانوں میں فروخت ہوتی ہیں ليكن موجودہ دور میں یہ كتابیں زير زمين چلنے والی ٹرينوں كے دروازوں ،عام گذرگاہوں اور بعض اوقات انتہايی گندی جگہوں پر وہ بھی بہت مہنگی فروخت ہوتی ہیں جو جمہوریہ آذر باﺋيجان كے مسلمان عوام كی ضرورت كے لیے كافی نہیں ہیں-
باكو كے جمعيت دينی كے قاﺋد حاج ايلغار ابراہيم اوغلو نے كہا: جہاں پر تہذيب يافتہ معاشرہ ہو اور آزاد اقتصادی بازار ہو اور معاشرہ كے متوسط لوگ وہاں پر موجود ہوں وہاں پر اسلامی احكام كی ترويج كی خاطر اوقاف كے ادارے كی تشكيل نہايت ضروری ہے-
انہوں كہا:جمہوریہ آذر باﺋيجان میں تہذيب يافتہ معاشرہ ہونے كے باوجود ،ايسے اداروں كی تاسيس كی راہ میں حكومت نے بہت زيادہ مشكلات ايجاد كی ہوئی ہیں ان مشكلات میں سے قرآنی نسخوں كو مہنگے داموں فروخت كرنا ہے-