دستاویزی فلم "کرد اور قرآن کی زبان" عراق میں تیار ہوگی

IQNA

8:02 - August 10, 2026
خبر کا کوڈ: 3520563

دستاویزی فلم "کرد اور قرآن کی زبان" عراق میں تیار ہوگی

ایکنا: "کرد اور قرآن کی زبان" ڈکومنٹری عراقی ہدایت کار اور پروڈیوسر حیدر غنی کا نیا منصوبہ ہے، جس کی فلم بندی عراق کے کردستان میں کی گئی ہے۔

1

ایکنا نیوز کے مطابق، اس دستاویزی فلم میں کردی اور عربی زبانوں کے درمیان ثقافتی و تاریخی تعلق اور قرآن کریم کے کرد معاشرے پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ قومی فلم پروڈکشن سپورٹ پروگرام کے تحت سرکاری مالی معاونت بھی حاصل کر چکا ہے، جس کا مقصد سینما کی صنعت کی حمایت کرنا ہے۔

حیدر غنی نے اس فلم کے بارے میں کہا: "یہ فلم عربی زبان کو قومی یا سیاسی زبان کے طور پر موضوع نہیں بناتی بلکہ اسے قرآن کی زبان کے طور پر پیش کرتی ہے اور اس بات کا جائزہ لیتی ہے کہ کس طرح یہ زبان صدیوں کے دوران عراق کے کرد معاشرے کے ایک بڑے حصے کی ثقافتی اور مذہبی زندگی کا ناقابلِ جدا حصہ بن گئی۔ یہ سب کچھ اس حقیقت کے باوجود ہوا کہ کردوں نے اپنی زبان، شناخت اور روایات کو محفوظ رکھا۔ یہ ثقافتی بقائے باہمی میرے لیے بہت دلچسپ اور متاثر کن ہے۔

ان کا کہنا تھا: " عراق ہمیشہ سے تنوع کا ایک مرکز رہا ہے اور میرا خیال ہے کہ سینما کو اس تنوع کی عکاسی کرنی چاہیے، نہ کہ صرف جنگوں اور تنازعات کی کہانیاں بیان کرنی چاہئیں۔ میرے نزدیک ایک حقیقی دستاویزی فلم تیار شدہ جوابات پیش نہیں کرتی بلکہ سوالات اٹھاتی ہے اور ناظرین کو غور و فکر کے لیے ایک موقع فراہم کرتی ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کے حصول کی میں اس منصوبے میں کوشش کر رہا ہوں۔

حیدر غنی یونیورسٹی کے استاد، فلم اور ٹیلی ویژن کے ہدایت کار اور سینماٹوگرافر ہیں۔ وہ روشنی کی ڈیزائننگ اور میڈیا پروڈکشن کے شعبے میں بھی مہارت رکھتے ہیں۔ انہیں بصری ذرائع ابلاغ کے لیے فلموں اور دستاویزی پروگراموں کی تیاری کا 20 سال سے زائد پیشہ ورانہ تجربہ حاصل ہے۔ انہوں نے بغداد یونیورسٹی سے سینما میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے اور عراقی، عرب اور بین الاقوامی سیٹلائٹ چینلز کے لیے کام کیا ہے۔ ان کی نمایاں فلموں میں "ایک جگہ کا سکون‘‘، ’’تسخیر شدہ‘‘ اور ’’گھر‘‘ شامل ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ انہیں اس فلم کے اسکرپٹ، جسے اسکرین رائٹر مصطفیٰ حسن نے تحریر کیا ہے، میں کیا چیز پسند آئی، عراقی ہدایت کار کا کہنا تھا: "میں نے محسوس کیا کہ یہ خیال محض معلومات پر مبنی نہیں بلکہ انسانی عنصر پر استوار ہے۔ اسکرپٹ میں کرداروں کو صرف معلومات کے ذرائع کے طور پر نہیں بلکہ یادوں اور اجتماعی حافظے کے امین کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ بحیثیت ہدایت کار یہ بات میرے لیے بہت اہم ہے۔ مجھے ایک اور چیز نے بھی متاثر کیا کہ اسکرپٹ خطیبانہ انداز سے گریز کرتا ہے اور تصاویر کو خود بولنے کا موقع دیتا ہے۔ میرے نزدیک دستاویزی سینما محض فلمایا ہوا خطاب نہیں بلکہ ایک ایسی بصری زبان ہے جس کی اپنی مخصوص رفتار اور شاعرانہ کیفیت ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسکرپٹ نے انہیں اپنی ہدایت کاری کے نقطۂ نظر کو وسعت دینے کے لیے کافی گنجائش فراہم کی، جو تصویر، آواز، خاموشی، قدرتی ماحول اور روزمرہ زندگی کی جزئیات پر مبنی ہے۔

حیدر غنی نے کہا کہ اس فلم میں انہیں ایک مکمل بصری دنیا تخلیق کرنے کا موقع ملا ہے، جو کرد آبادی والے شہروں اور ان کی تاریخ سے شروع ہوتی ہے، تعلیمی اور مذہبی اداروں سے گزرتی ہوئی گھروں، بازاروں اور عام انسانی گفتگو تک پہنچتی ہے، تاکہ ناظرین کو ایسا محسوس ہو کہ وہ محض اس تجربے کے بارے میں سن نہیں رہے بلکہ خود اسے جی رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا: " میرے لیے ہر دستاویزی فلم کی کامیابی ایسے اسکرپٹ سے شروع ہوتی ہے جو ناظرین کی عقل اور فہم کا احترام کرتا ہو، اور مجھے یہ چیز اس اسکرپٹ میں نظر آئی۔

فلم کی مالی معاونت کے بارے میں عراقی ہدایت کار نے کہا: سینما سپورٹ انیشی ایٹو کی کمیٹی، جس نے اس فلم کی معاونت میں حصہ لیا ہے، عراق میں فلم سازی کے حوالے سے اعتماد بحال کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ ان کی حمایت ملنے سے اس منصوبے کو اپنے خیال کو عملی شکل دینے کا حقیقی موقع ملا۔ تاہم، میرا نہیں ماننا کہ اس نوعیت کی معاونت کو فلم سازی کے لیے ایک جامع مالیاتی نظام کا متبادل ہونا چاہیے۔

حیدر غنی نے اس نوعیت کی فلم کی تیاری میں درپیش مشکلات، خصوصاً زبان سے متعلق چیلنجز کے بارے میں کہا:  یقینا اس میں نمایاں چیلنجز موجود ہیں، کیونکہ زبان کے بارے میں بات کرنا کسی مقام یا تاریخی واقعے کے بارے میں بات کرنے سے مختلف ہے۔ زبان ایک غیر مرئی تصور ہے، جبکہ سینما بنیادی طور پر تصویر پر انحصار کرتا ہے، اور اصل مشکل بھی یہی ہے۔/

 

4368782

نظرات بینندگان
captcha