ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا )نے جنگ نيوز سے نقل كيا هے كه عمان میں صدر پرويز مشرف اور اردن كے شاہ عبداللہ ثانی كے درميان ملاقات میں مسئلہ فلسطين كے حل كيلئے مل كر كوششیں كرنے پر اتفاق كيا گيا۔ صدر پرويز نے شاہ عبداللہ ثانی كو سعودی عرب كے شاہ عبداللہ اور مصر كے صدر حسنی مبارك كے ساتھ ہونے والی بات چيت سے آگاہ كيا اور انہیں اعتماد میں ليا۔ اردن كے شاہ عبداللہ نے خطے میں پائيدار امن اور تنازع فلسطين كے حل كيلئے صدر جنرل پرويز مشرف كی سفارتی پيشرفت كو سراہا اور كہا كہ اردن پاكستان كے ساتھ ملكر اس پيشرفت كو آگے بڑھائے گا۔ دونوں رہنماؤں نے دہشتگردی اور انتہا پسندی كے خاتمے كيلئے اپنے عزم كااظہار كيا اور كہا كہ اسلامی دنيا كو اس سلسلے میں اپنی كوششیں تيز كرنا ہوں گی۔ صدر جنرل پرويز مشرف نے شاہ عبداللہ سے مسئلہ فلسطين كے حل، مشرق وسطیٰ كی تازہ صورتحال، مسلم امّہ كو درپيش مسائل اور دہشت گردی اور انتہا پسندی كے خاتمے كی كوششوں پر تبادلہٴ خيال كيا۔ عمان كے شاہی محل میں آمد پر شاہ عبد اللہ نے صدر پرويز مشرف كا استقبال كيا۔ دونوں رہنماؤں نے ڈیڑھ گھنٹہ تك مشرق وسطیٰ كی سلامتی كی صورتحال، خصوصاً تنازع فلسطين كے حل كے حوالے سے نئی سفارتی پيشرفت پر بات چيت كی۔ صدر نے كہا كہ فلسطين كی صورتحال اس وقت مشرق وسطیٰ كے امن كيلئے بہت خطرناك ہے لہٰذا اس كا فوری طور پر پُر امن منصفانہ ، سفارتی حل نكالنا ہوگا۔ ملاقات كے بعد صدر پرويز اور شاہ عبداللہ نے تحريری بيانات پڑھے جن میں مشرق وسطیٰ كی بگڑتی ہوئی صورت حال كی طرف توجہ دلاتے ہوئے تنازعات طے كرنے كيلئے نئی اور موٴثر كوشش پر زور ديا گيا اور خبردار كيا گيا كہ خطے اور دنيا میں امن و سلامتی كے موقع كو ضائع نہ كيا جائے۔ صدر پرويز نے كہا ہمیں عراق میں تشدد كے سلسلے اور لبنان كی صورتحال پر بھی تشويش ہے۔ شاہ عبداللہ نے كہا ہم نے لبنان اور افغانستان كی خود مختاری، سلامتی اور استحكام يقينی بنانے اور ايران كے ایٹمی معاملے كو سفارتی ذرائع سے طے كرنے كی اہميت پر بھی بات چيت كی۔ دونوں رہنماؤں نے گروپ 11 كے سربراہ اجلاس كی تياريوں پر بھی تبادلہٴ خيال كيا۔ عمان كے دورے كے بعد صدر پرويز مشرف اپنے دورے كے چوتھے مرحلے میں شام پہنچے جہاں انہوں نے صدر بشارالاسد كے ساتھ مشرق وسطیٰ میں امن اور مسئلہ فلسطين كے بارے میں مفصل بات چيت كی۔ دونوں رہنماؤں نے خطے میں تنازعات اور كشيدگی كے خاتمے كيلئے مسئلہ فلسطين كے فوری حل كی كوششوں پر زور ديا۔ اس سے پہلے دمشق ائر پورٹ پر شام كے صدر بشارالاسد اوران كی اہلیہ نے صدر جنرل پرويزمشرف اور خاتون اول بيگم صہبا مشرف كا خير مقدم كيا۔ شام كی مسلح افواج كے دستے نے معزز مہمانوں كو گارڈ آف آنر پيش كيا۔ شام میں پاكستان كے سفير اور ديگر سينئر حكام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ دبئی سے نمائندہ جنگ كے مطابق صدر پرويز اپنے مشرق وسطیٰ كے دورے كے اختتام پر گزشتہ روز متحدہ عرب امارات كے دارالحكومت ابو ظبی پہنچ گئے، وہ آج دوپہر پريس كانفرنس سے خطاب كرينگے۔