اسلام آباد میں7مسلم وزرائے خارجہ كا مطالبہ : ايران كيخلاف طاقت استعمال نہ كی جائے

IQNA

10:51 - February 26, 2007
خبر کا کوڈ: 1528708

اسلام آباد میں7مسلم وزرائے خارجہ كا مطالبہ : ايران كيخلاف طاقت استعمال نہ كی جائے

بين الاقوامی گروپ :مسئلہ فلسطين كے حل، ايران، عراق اور لبنان كی صورتحال سميت مشرق وسطیٰ كے مسائل پر غور و فكر كيلئے اسلام آباد میں او آئی سی كے سات ہم خيال مسلم ممالك كے وزارئے خارجہ كا اجلاس ہوا،







ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی ﴿ايكنا ﴾نے جنگ نيوز كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ

مسئلہ فلسطين كے حل، ايران، عراق اور لبنان كی صورتحال سميت مشرق وسطیٰ كے مسائل پر غور و فكر كيلئے اسلام آباد میں او آئی سی كے سات ہم خيال مسلم ممالك كے وزارئے خارجہ كا اجلاس ہوا، افتتاحی اجلاس سے خطاب كرتے ہوئے وزيراعظم شوكت عزيز نے كہا كہ اسلامی دنيا داخلی اور خارجہ چيلنجوں سے نمٹنے كيلئے مشتركہ حكمت عملی اختيار كرے، امہ كے مسائل كا حل نہ ہونا خطرناك ہو سكتا ہے، اسلامی دنيا اور مغرب میں دورياں ختم كرنے كيلئے كوششیں كرنا ہونگی تاكہ تہذيبوں كے تصادم سے بچا جائے۔ اجلاس كے اختتام پر جاری كئے جانے والے مشتركہ اعلامیہ كے مطابق اسلامی كانفرنس تنظيم كے سات ہم خيال اسلامی ممالك نے مسئلہ فلسطين كو مشرق وسطیٰ كا مركزی اور بنيادی مسئلہ قرار ديتے ہوئے مطالبہ كيا ہے كہ مسئلہ فلسطين اقوام متحدہ كی قراردادوں اور عرب امن اقدامات كی بنياد پر بلاتاخير حل كيا جائے اور ايسی آزاد فلسطينی رياست كا قيام عمل میں لايا جائے جس كا دارالحكومت بيت المقدس ہو۔ اجلاس میں اسرائيل پر بھی زور ديا گيا كہ وہ شام اور لبنان كے مقبوضہ علاقوں ”گولان ہائٹس“ سے اپنے فوجيوں كو واپس
بلائے، ايران كا ایٹمی مسئلہ طاقت كی بجائے سفارتكاری كے ذريعہ حل كيا جائے۔ اجلاس میں مشرق وسطی میں مسائل كے حل كيلئے غور و فكر جاری ركھنے اور اتفاق رائے پيدا كرنے پر بھی اتفاق ہوا۔ پاكستان كے وزير خارجہ خورشيد محمود قصوری نے اجلاس كے بعد پريس كانفرنس سے خطاب اور مشتركہ اعلامیہ پڑھتے ہوئے كہا كہ اجلاس میں مشرق وسطی كی صورتحال، اسلامی دنيا كو درپيش داخلی اور خارجی چيلنجوں سے نمٹنے اور اسلامی ممالك كے درميان اتحاد، يكجہتی اور ہم آہنگی كو فروغ دينے كيلئے نئی حكمت عملياں وضع كرنے پر غور كيا گيا، یہ تجاويز ہم خيال ممالك كے جلد سے جلد سعودی عرب میں ہونے والے سربراہ اجلاس میں غور اور فيصلہ كيلئے پيش كی جائیں گی۔ خورشيد قصوری نے كہا كہ وزرائے خارجہ نے اپنے اجلاس كے دوران اس بات كا اعادہ كيا كہ فلسطين كا تنازعہ مشرق وسطی كا مركزی اور بنيادی مسئلہ ہے جسے اقوام متحدہ كی قراردادوں، عرب امن اقدامات اور ايسے تمام ديگر اقدامات كی بنياد پر بلاتاخير حل كيا جانا چاہئے جن میں القدس شريف دارالحكومت كے ساتھ ايك فلسطينی رياست كے قيام كی ضرورت كو تسليم كيا گيا ہے۔ وزرائے خارجہ نے مسلسل قبضہ اور مسجد اقصی كے خلاف حالیہ خلاف ورزی سميت اسرائيل كے غير قانونی اقدامات پر تشويش كا اظہار كيا۔ خورشيد قصوری نے بتايا كہ وزرائے خارجہ نے اتفاق كيا كہ عراق میں لڑائی اور تشدد تمام مسلمانوں كيلئے گہری تشويش كا سبب ہے، عراق كی خود مختاری اور علاقائی سالميت كو يقينی بنايا جائے اور عراقی حكومت كو بھی ملك كے اندر قومی مصالحت كيلئے تمام كوششیں كرنی چاہئیں۔ انہوں نے كہا كہ تمام وزراء خارجہ نے ہر قسم كی دہشتگردی اور انتہا پسندی كيخلاف لڑنے كے پختہ عزم كا اظہا ركيا۔ انہوں نے عظيم مذہب اسلام كو بدنام كرنے كی مہمات پر گہری تشويش كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ ايسے رجحانات سے سختی سے نمٹنا چاہئے۔ مسئلہ كشمير كے بارے میں ايك سوال پر وزير خارجہ نے كہا كہ كشمير اب بھی او آئی سی كے ايجنڈے میں شامل ہے مگر موجودہ اجلاس كا مقصد مشرق وسطی كی صورتحال كا حل نكالنے كيلئے كوششیں كرنا ہے۔ ايك سوال پر انہوں نے كہا كہ اس گروپ میں شامل تمام اسلامی ممالك مسئلہ فلسطين كے حل كيلئے نئی كوششوں پر متفق ہیں تاہم كسی بھی اسلامی ملك پر اس گروپ میں آنے پر كوئی پابندی نہیں، اس اجلاس كا مقصد سعودی عرب میں ان ممالك كے سربراہ اجلاس كيلئے ايجنڈا تيار كرنا تھا۔ انہوں نے كہا كہ سات مسلم ممالك جن كے وزراء كا اجلاس ہوا وہ مشرق وسطیٰ میں امريكا كا رول ادا نہیں كر رہے  یہ سوال پوچھنا ہی مضحكہ خيز ہے۔ امريكا كی اپنی ترجيحات ہیں  خورشيد محمود قصوری نے كہا كہ اس معاملے پر ہم چين  جاپان  يورپی يونين  روس سے رابطے كر سكتے ہیں۔ قبل ازیں اجلاس سے افتتاحی خطاب كرتے ہوئے وزيراعظم شوكت عزيز نے كہا كہ مشرق وسطیٰ میں پائيدار امن مسئلہ فلسطين كے انصاف، برابری اور وہاں كے عوام كی مرضی كے مطابق حل سے ہی قائم ہو سكتا ہے۔ انہوں نے كہا كہ مسئلہ فلسطين حل كئے بغير مشرق وسطیٰ میں پائيدار امن كا قيام ممكن نہیں۔ وزيراعظم نے كہا كہ مسلم امہ كو اندرونی اور بيرونی مسائل پر قابو پانے كيلئے مل كر جامع حكمت عملی اپنانے كی ضرورت ہے كيونكہ امن كے مسائل كا حل نہ ہونا خطرناك ثابت ہوسكتا ہے۔ عراق كی صورتحال پر بات كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ عراقی عوام كو اپنی قسمت كا فيصلہ خود كرنے كا حق حاصل ہونا چاہئے، لبنان میں امن و استحكام اور سلامتی كيلئے مل كر اقدامات كرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے كہا كہ گولان كی پہاڑيوں كا مسئلہ تمام فريقين كو مل كر بات چيت سے حل كرنا ہوگا۔ انہوں نے كہا كہ دہشتگردی اور انتہا پسندی كے مقابلے كيلئے مشتركہ حكمت عملی اپنائی جائے، ہمیں اسلامی دنيا اور مغرب كے درميان دورياں ختم كرنے كيلئے كوششیں كرنا ہونگی تاكہ تہذيبوں كے تصادم سے بچا جا سكے۔ دریں اثناء ہم خيال ممالك كے وزرائے خارجہ سے وزيراعظم ہاؤس میں ملاقات كے موقع پر شوكت عزيز نے كہا كہ مسلم امہ كو چيلنجز سے نمٹنے كيلئے وسيع النظر سوچ اپنانے كی ضرورت ہے۔ اس موقع پر او آئی سی كے سيكریٹری جنرل اكمل الدين احسان اوغلو اور وزير خارجہ خورشيد قصوری بھی موجود تھے۔ وزيراعظم نے كہا كہ مسلم ممالك میں اتحاد اور نئے اقدامات كی ضرورت ہے اور تہذيبوں كے تصادم سے بچنے كيلئے باہمی روابط بڑھانا ہونگے۔ وزرائے خارجہ اور احسان اوغلو نے مشرق وسطیٰ میں قيام امن كيلئے صدر پرويز كی كوششوں اور اقدامات كو خراج تحسين پيش كيا۔



نظرات بینندگان
captcha