ايران كی قرآنی خبر رساں ايجينسی (ايكنا ) كی رپورٹ كے مطابق پاكستان میں ايران كے سفير ما شا اللہ شاكری نے كل راولپبڈی میں قائد ملت جعفریہ پاكستان اورمتحدہ مجلس عمل كے مركزی سينئر نائب صدر علامہ سيد ساجد علی نقوی سے ان كی رہائش گاہ پر تفصيلی ملاقات كی جس میں پاك ايران تعلقات ٬خطے كی بدلتی ہوئی صورت حال٬پاكستان میں دوسرے ممالك سے فرقہ واريت در آمد كرنے ٬عالمی استعماری جارحيت كے خلاف اسلامی جمہوری ايران كے اصولی موقف اور ديگر عالمی و علاقائی امور پر تبادلہ خيال ہوا –اس موقع پر علامہ سيد عبد الجليل نقوی ٬سيد اظہار بخاری اور ايرانی سفارت كار موجود تھے
ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہنے والی اس ملاقات میں ايرانی سفير نے پاكستان اور ايران كے عوام میں اتحاد و اخوت كو فروغ دينے اور عالم اسلام كےمسائل سے با خبر رہتے ہوۓ خطے كی بدلتی ہوئی صورت حال كے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ايران كے اصولی موقف كی حمايت پر علامہ ساجد نقوی كا شكریہ ادا كيا اور مزيد كہا كہ آپ نے اپنی كميونٹی اور ايم ايم اے كے ذريعے جس طرح مسلمانوں میں وحدت كو فروغ ديا ہے اور انہیں مشتركات پر جمع كرتے ہوۓ اپنے مشتركہ دشمنوں كے خلاف متحد موقف اختيار كرنے كا فريضہ انجام ديا ہے وہ دنيا كے تمام اسلامی ممالك اور مسلم عوام كے لیے قابل تقليد ہے ايران اور پاكستان قديم مذھبی سياسی ٬ثقافتی ٬علاقائی اور روحانی رشتوں سے جڑے ہوۓ ہیں ان رشتوں میں مضبوطی ہی ہمیں تمام مشكلات سے بچا سكتی ہے ہمیں خوشی ہے كہ پاكستان میں بھی عوام بلا تفريق مسلك و فرقہ ايران كی حمايت كرتے ہیں-
علامہ ساجد نقوی نے ايرانی سفير اور ان كے وفد كے اراكين سے گفتگو كرتے ہوۓ كہا كہ عالم اسلام موجودہ حالات میں جن مصائب و مشكلات كا شكار ہے ان سے نكلنے كا واحد راستہ اتحاد اور جذبہ اخوت كے ساتھ مشتركہ نكات پر متحد ہو كر عالم اسلام كے خلاف ہونے والی سازشوں كا مقابلہ كرنے میں مضمر ہے ہم نے پاكستان كے عوام كے جذبات كی حقيقی ترجمانی كرتے ہوۓ اسلامی جمہوری ايران كے حوالے سے اصولی موقف اختيار كيا ہے جو ہمارا دينی مذھبی اور اخلاقی فريضہ تھا كہ پاكستان اور ايران كے مستقبل كو محفوظ كرنے كے لیے جنگ اور حملے كی مخالفت كی جاۓ اور جارح قوتوں كے خلاف عوام كو پر امن جدوجہد كے لیے تيار ركھا جاۓ اسی پاليسی كے تناظر میں ہم نے پاكستان كو فرقہ وارانہ دہشت گردی سے محفوظ ركھنے میں اولين كردار ادا كيا ہے جس كے اثرات پورے خطے پر پڑے ہیں-جبكہ پاكستان میں دوسرے ممالك سے در آمد كی جانے والی فرقہ واريت كا راستہ روكنے كے لیے بھر پور اقدامات كۓ گۓ ہیں-
علامہ ساجد نقوی نے كہا كہ پاكستان میں آنے والی حكومتوں كی پاليسياں جو بھی ہوں ليكن پاكستانی عوام ہميشہ سے اپنے ايرانی بھائيوں كے ساتھ ہمدردی ركھتے ہیں یہ جذبہ اب بھی پوری قوت كے ساتھ زندہ ہے –متحدہ مجلس عمل كے علاوہ بھی پاكستان كی تمام سياسی و دينی جماعتوں نے ايران كے اصولی موقف اور امريكہ كی ممكنہ جارحيت كے خلاف مضبوط اور متحد موقف اختيار كيا ہے اور اس حملے كوايك ملك نہیں پورے خطے بلكہ پوری دنيا كے لیے تباہ كن اور نقصان دہ قرار ديا ہے لہذا اس موقف كی روشنی میں ہم كہہ سكتے ہیں كہ اگر خدانخواستہ جنگ كی صورت حال پيدا ہوئی تو پاكستانی عوام اپنے ايرانی بھائيوں كے شانہ بشانہ ہوں گے اور امت مسلمہ كے خلاف اقدام كرنے والوں كے خلاف متحد ہو كر احتجاج اور جدو جہد كریں گے