امريكی حكومت كی جانب سے ايران پر عائد كردہ پابنديوں كو پيش نظر ركھتے ہوئے عالمی بينك نے ايران كو رقوم كی ادائيگی روك دی۔ عالمی بينك نے یہ اقدام صدر بش كی انتظامیہ كی طرف سے ايران پر پابنديوں كے اعلان كے بعد كيا ہے۔ عالمی بينك كی طرف سے ايران كو زلزلے سے متاثرہ علاقوں كی بحالی، صحت و صفائی اور دوسرے شعبہ جات كی بہتری كيلئے فنڈز كی ترسيل فوری طور پر روك دی گئی ہے۔ عالمی بينك كے ذرائع كے مطابق عالمی بينك نے ايران كيلئے چار بڑے منصوبوں جن میں زلزلہ زدگان كی ريليف، پانی اور سينی ٹيشن، ماحولياتی مينجمنٹ اور اربن ہاؤسنگ كے منصوبے شامل ہیں كيلئے 504 ملين ڈالر كی ادائيگياں روك دی ہیں تاہم تاحال ادائيگيوں میں موجود ركاوٹ كی حيثيت ابھی مستقل نہیں كی گئی ليكن بينك كے مطابق ادائيگيوں كی دوبارہ بحالی كا امكان محدود ہے كيونكہ عالمی بينك جن ايرانی بينكوں كے ذريعے ادائيگياں كر رہا تھا ان كے ساتھ لين دين پر امريكی حكومت كی طرف سے پابندی عائد كر دی گئی جبكہ ان ايرانی بينكوں كا متبادل تلاش كرنا بھی مشكل ہے۔ ايرانی بينك ”ملی“ اور بينك صادرات اور بينك ملت امريكی پابنديوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ امريكی حكومت نے الزام لگايا ہے كہ یہ بينك دہشت گرد كارروائياں كرنے والوں اور ایٹمی پھيلاؤ كرنے والوں كی مالی معاونت میں ملوث ہیں۔