كريمہ اہل بيت حضرت معصومہ قم(‏ع) كی رحلت حسرت آيات پراپنے تمام قارئين محترم كو تعزيت و تسليت پيش كرتے ہیں

IQNA

13:47 - April 17, 2008
خبر کا کوڈ: 1643956

كريمہ اہل بيت حضرت معصومہ قم(‏ع) كی رحلت حسرت آيات پراپنے تمام قارئين محترم كو تعزيت و تسليت پيش كرتے ہیں

قم میں حضرت معصومہ(ع) كا روضہ مشہد میں حضرت امام رضا(ع) كے روضۂ اقدس كے بعد ايران كا دوسرا بارونق مزار ہے جہاں روزانہ ہزاروں زائرين آپ (ع) كی زيارت كرتے ہیں۔


حضرت معصومہ(ع)، ساتویں امام فرزندِ رسول (ص) حضرت امام موسٰی بن جعفر (ع) كی دختر گرامی اور حضرت امام رضا(ع) كی ہمشيرہ ہیں۔ آپ (ع) كا اصل نام فاطمہ ہے۔ آپ (ع) اور امام رضا(ع) ايك ہی مادر سے پيدا ہوئے ہیں، جن كے مشہور نام خيزران، ام البنين اور نجمہ ہیں ۔ تاريخی روايات كے مطابق حضرت فاطمۂ معصومہ يكم ذی العقدہ ٣٧١ھ ق كو مدينۂ منوّرہ میں پيدا ہوئیں، ليكن آپ (ع) كی تاريخ وفات میں اختلاف ہے ۔ ايك روايت كے مطابق آپ (ع) نے ١٠ ربيع الثانی كو وفات پائی جب كہ ايك اور روايت میں كہا گيا ہے كہ آپ (ع) كی تاريخ رحلت ١٢ ربيع الثانی ٢٠١ ہجری ہے۔ بعض مآخذوں كے مطابق آپ (ع) نے ٨ شعبان كے دن دارِ فانی سے كوچ كيا۔

حضرت فاطمۂ معصومہ(ع) اہل بيت رسول (ص) كی اُن ہستيوں میں سے ہیں جو مقام عصمت كے حامل نہ ہوتے ہوئے بھی عظيم شخصيت كی مالك تھیں جيسے حضرت زينب كبری (ع) اور حضرت ابوالفضل العبّاس (ع)۔ آپ (ع) كی فضيلت كا اندازہ اس سے لگا سكتے ہیں كہ حضرت امام جعفر الصادق (ع) نےآپ (ع) كے والد گرامی حضرت امام موسٰی كاظم(ع) كی ولادت سے قبل ہی آپ (ع) كے مدفن كی پيش گوئی كرتے ہوئے آپ (ع) كی زيارت كی فضيلت بيان فرمائی تھی۔ حضرت امام جعفر الصادق (ع) نے اپنے ايك صحابی سے حضرت امام موسٰی بن جعفر كی طرف بچپن میں اشارہ كرتے ہوئے فرمايا : یہ ميرا بیٹا موسٰی ہے، خداوندِ عالم اس سے مجھے ايك بیٹی عطا كرے گا جس كا نام فاطمہ ہوگا ۔ وہ قم كی سرزمين میں دفن ہوجائے گی اور جس نے قم میں اس كی زيارت كی، اس پر بہشت واجب ہوگی ۔ ايك اور روايت ہے كہ آپ (ع) نے فرمايا : بہت جلد قم میں ميری اولاد میں سےايك خاتون دفن ہوگی جس كا نام فاطمہ ہے اور جو اس كی قبر كی زيارت كرے گا اس پر جنت واجب ہوگی۔ اس طرح كی احاديث و روايات حضرت معصومہ(ع) كے عظيم مقام و مرتبے كا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ حضرت امام جعفر الصادق (ع) كی زباں سے زائر حضرت معصومہ(ع) كے لئے جنت كی بشارت اور وہ بھی وجوب كی حد تك بڑی اہميت كی حامل ہے، حضرت امام رضا(ع) كو چھوڑ كر، حضرت امام موسٰی كاظم (ع) كی اولاد میں حضرت معصومہ(ع) ہی وہ ہستی ہیں جن كی فضيلت كے بارے میں آئمہ معصومين (ع) كی روايات ملتی ہیں ۔ یہاں یہ بات قابل توجہ ہے كہ آئمہ میں سب سے زيادہ اولاد حضرت امام موسٰی كاظم (ع) ہی كی تھیں۔ آپ (ع) كے برادر گرامی حضرت امام رضا(ع) سے روايت كی گئی ہے :

من زارھا عارفاً ِبحقّھا فلہُ الجنّۃُ " جس نے اُن (حضرت معصومہ(ع) ) كے حق كو جانتے ہوئے، اُن كی زيارت كی اس كے لئے جنت ہے"



آئیے آپ كو حضرت معصومہ(ع) كے علمی مقام اور فضل و دانش سے متعلق ايك واقعہ سناتے ہیں ۔ ايك دن محبّان اہل بيت (ع) كا ايك گروہ اپنے رہبر و آقا حضرت امام موسٰی كاظم (ع) سے كچھ علمی جوابات حاصل كرنے كے لئے مدينۂ منورہ وارد ہوا، آپ (ع) سفر پر تھے لہٰذا اس گروہ كے افراد نے اپنے سوالات لكھ كر آپ (‏ع) كے دولت كدے كے افراد كے حوالے كئے۔ وہ لوگ جاتے وقت حضرت امام موسٰی كاظم (ع) كے دولت كدے پر گئے تو ديكھا حضرت معصومہ(ع) نے اُن تمام سوالات كے جواب لكھ ديئے تھے، جب كہ اس وقت آپ (ع) كم سن تھیں، وہ لوگ اپنے سوالات كے جواب پا كر بہت خوش ہوئے اور اپنے وطن واپس چل پڑے ، راستے میں وہ حضرت امام موسٰی كاظم (ع) سے ملے تو پورا واقعہ آپ(ع) كو سنايا، امام (ع) نے ان سے وہ جوابات مانگے، جب آپ (ع)نے ديكھا حضرت معصومہ(ع) نے تمام سوالات كےجواب صحيح لكھے ہیں، آپ (ع) نے فرمايا:

فداھا ابوھا " اُس كا باپ اُس پر قربان ہو" یہ واقعہ حضرت معصومۂ قم كی علمی منزلت كی ايك واضح دليل ہے۔ حضرت معصومہ(ع) اسلامی علوم پر دسترس ركھتی تھیں، آپ (ع) عالمہ فاضلہ ہونے كے ساتھ محدثہ بھی تھیں۔ آپ (‏ع) سے متعدد احاديث نقل كی گئی ہیں، ان میں سے ايك مشہور حديث، واقعۂ غدير سے متعلق ہے۔ حضرت معصومہ(ع) كی معروف و غير مشہور زيارتوں میں آپ (ع) كو حجّت، امين، حميدہ، رشيدہ، تقیہ، نقیہ، رضیہ، طاہرہ اور برّہ كے القاب سے ياد كيا گيا ہے ۔غرض یہ كہ حضرت معصومہ(ع) معصومين (ع) كی طرح معصوم عن الخطا تو نہیں تھیں ليكن آپ گناہوں سے پاكيزگی كے مقام پر فائز ہیں يعنی آپ (ع) كی عصمت اكتسابی ہے۔ آپ كو شفاعت كا مقام بھی حاصل ہے۔ حضرت امام جعفرالصادق(ع) سے روايت كی گئی ہے كہ : اُس (حضرت معصومہ(ع) ) كی شفاعت سے ہمارے تمام چاہنے والے بہشت میں داخل ہو جائیں گے۔ " آخرت میں شفاعت كے علاوہ دنيا میں بھی حضرت معصومہ(ع) كی ذات اقدس كرامات كا سرچشمہ ہے آپ (ع) كے روضۂ اقدس پرلاچار اور مضطر لوگوں كی حاجات روا ہوتی ہیں، بيماروں كو شفا ملتی ہے اور دلوں میں نور ہدايت بھر جاتا ہے۔ قم كی عظيم دينی درسگاہ بھی آپ (ع) ہی كی مرہون منت ہے۔ ابتدا سے لے كر آج تك علماء، محدثين، فقہا اور دانشور آپ كے روضے كے نزديك علم و دانش كی اشاعت میں مصروف رہے ہیں ۔ تاريخِ قم میں كہا گيا ہے كہ قم كو محبّان اہل بيت (ع) كے ايك گروہ نے آباد كيا جو اموی دور میں حكام كے مظالم سے بچنے كے لئے فرار ہو كر آئے تھے، اس سے پہلے یہاں خانہ بدوش لوگ پانی اور چارے كے ذخائر كی وجہ سے یہاں آتے جاتے رہتے تھے، قم آنے والے افراد میں علماء محدثين بھی شامل تھے۔عباسی دور میں سادات كی بڑی تعداد عرب ممالك سے ہجرت كركے قم آئے ۔ ان میں حضرت امام تقی (ع) كے فرزندِ ارجمند حضرت موسٰی مبرقع (ع) قابل ذكر ہیں جن كا مزار بھی قم میں ہے۔ قم كی دينی درسگاہ مختلف تاريخی ادوار میں آباد رہی ليكن اس درسگاہ كواُس وقت خاص اہميت مل گئی جب ١٣٤٠ ہجری میں آيت اللہ العظمی حائری يزدی (رح) اراك شہر سے ہجرت كر كے قم آئے، آپ كے ساتھ آپ (رح) كے شاگرد ارجمند حضرت امام خمينی (رح) بھی قم آئے۔ آيت اللہ حائری يزدی (رح) كی وفات كے بعد آيت اللہ بروجردی (رح) نے اس درسگاہ كو فروغ ديا ۔ اُن كی رحلت كے بعد امام خمينی (رح) سميت ديگر مراجع دين نے علم و دانش كے فروع میں بڑھ چڑھ كر حصہ ليا۔ ١٩٦٢ء بارگاہ حضرت معصومہ(ع) سے ہی حضرت امام خمينی (رح) كی قيادت میں ايران كے اسلامی انقلاب كا آغاز ہوا۔ اسی لئے قم كو شہرِ علم و قيام (انقلاب) اور شہر علم وشہادت بھی كہتے ہیں، اس شہر كے باشندوں نے اسلام كی سربلندی كے لئے بيش بہا قربانياں دیں اور یہ سب حضرت معصومہ(ع) كے وجود اقدس كے طفيل ہے ۔


حضرت معصومۂ فاطمہ (ع) نے زندگی كا بيشتر حصہ اپنے عزيز برادر حضرت امام رضا(ع) كے سایۂ عطوفيت میں گزارا كيونكہ آپ (ع) كے والد گرامی حضرت امام موسٰی كاظم (‏ع) زيادہ تر عباسی خليفہ ہارون كے زيرعتاب اور پابند سلاسل رہے ۔ حضرت معصومہ(ع) كم سن تھیں جب آپ (ع) كے والد كو مقیّد كيا گيا۔ اسی لئے جب خليفہ مامون عباسی نے حضرت امام رضا(ع) كو ايك سازش كے تحت مدينۂ منورہ سے خراسان بلايا، آپ (ع) بھائی كی جدائی برداشت نہ كرسكیں اور ايك سال بعد خود بھی ايران كی طرف روانہ ہوئیں، ليكن ساوہ پہنچ كر آپ (ع) بيمار ہوگئیں، بعض روايات كے مطابق ساوہ میں آپ (ع) كے قافلے پر دشمنانِ اہل بيت (ع) نے حملہ كيا اور آپ (ع) كے ٢٣ حقيقی اور چچازاد بھائيوں كو شہيد كيا گيا ۔ آپ (‏ع) سے یہ منظر ديكھا نہ گيا اور بيمار ہوگيئں اور حضرت زينب كبری (ع) كی طرح اعزا و اقارب كی لاشوں كو چھوڑ كر قم روانہ ہوئیں۔ مؤرخين كے مطابق ساوہ میں بيماری كے بعد آپ (ع) نے قافلہ والوں سے قم لے جانے كو كہا۔ ايك اور روايت ہے كہ حضرت معصومہ(ع) كو ساوہ كی ايك عورت نے زہر ديا تھا جس كے اثر سے آپ عليل ہوئیں۔ جب قم كے باشندوں كو معلوم ہوا آپ (ع) ساوہ پہنچی ہیں تو شہر كے عمائدين نے آپ (ع) كو قم تشريف لانے كی دعوت دی ۔ بہرحال حضرت معصومہ قم پہنچنے كے ١٧ دن بعد رحلت كر گئیں۔ اس مدت میں آپ (ع) خداوند عالم سے راز و نياز میں مصروف رہیں ۔ آپ (ع) كا محراب عبادت آج بھی قم كے مدرسہ ستیّہ میں موجود ہے جسے بيت النور بھی كہا جاتا ہے۔ قم كے معززين میں حضرت معصومہ(ع) كو دفن كرنے كے مسئلے پر اختلاف ہوا، بالآخر فيصلہ كيا گيا كہ قادر نامی بزرگ آپ (ع) كے جسد مبارك كو قبر میں اتاریں گے ليكن ديكھتے ہی ديكھتے صحرا كی طرف سے دو نقاب پوش نمودار ہوئے جنہوں نے آپ (ع) كی نماز جنازہ پڑھ كر آپ (ع) كو سپرد خاك كيا۔ وفات كے وقت حضرت معصومہ(ع) كی عمر صرف٢٨ سال تھی۔
tebyan.net
نظرات بینندگان
captcha