"الطّلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان" (بقرہ ۲۲۹) كے تناظر میں تين طلاقوں كے مسئلہ كا حل

IQNA

16:41 - July 20, 2008
خبر کا کوڈ: 1670342

"الطّلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان" (بقرہ ۲۲۹) كے تناظر میں تين طلاقوں كے مسئلہ كا حل

ترجمہ :طلاق(رجعی جس كے بعد رجوع ہو سكتا ہے)دو ہی مرتبہ ہے اسكے بعد يا تو شريعت كے مطابق روك ہی لينا چاہيئے يا حسن سلوك سے (تيسری دفعہ)بالكل رخصت۔ اس آيت میں ’’تسريح باحسان ‘‘تيسری طلاق كی جانب اشارہ ہے ۔ محقق حوزہ علمیہ قم: طاہر عباس

تين طلاقیں
شيخ مفيد كہتے ہیں كہ ايك دن میں اپنے دوست ابو ہذيل سبيع بن منبہ مختاری كے ہاں گيا تو وہاں شيخ ابو طاہر جوہری ،ابو الحسن جوہری اور ابو محمد بن مامون بیٹھے تھے۔ان میں سے ايك نے مجھے كہا:شوہر اپنی بيوی كو ايك نشست میں تين طلاقیں ( شوہر كہے كہ میں تمہیں تين طلاقیں ديتا ہوں) دیں تو آپ ان طلاقوں كے بارے میں كيا كہتے ہیں؟
شيخ مفيد نے جواب ديا دو مسلمان عادل گواہو ں كی موجودگی میں دی جانے والی ايسی طلاق ايك طلاق سے زيادہ شمار نہیں ہو گی۔
ابو الحسن جوہری نے كچھ سكوت كے بعد كہامیں تو سوچ رہا تھا كہ آپ كہیں گے كہ اصلاً طلاق ہی نہیں ہوئی۔
ابو محمد بن مامون نے مجھ سے كہا كيا آپ ان تين طلاقوں كو صرف ايك طلاق شمار كرتے ہیں؟
شيخ مفيد نے جواب دياہاں گواہوں كی موجودگی كی شرط كے ساتھ وہ ايك طلاق شمار ہو گی۔
ابو محمد بن مامون نے اظہار تعجب كيا اور اس نے پوچھا آپكے پاس ان تين طلاقوں كوايك طلاق شمار كرنے كی كيا دليل ہے؟حالانكہ اس شخص نے تين كا تلفظ كيا ہے۔
شيخ مفيد نے جواب ديا اس پر كتاب خدا (قران)،سنت نبی ص ، اجماع مسلمين،فرمان حضرت علی ع، قول حضرت ابن عبا س اور حضرت عمر دليل ہیں۔
یہ بات سن كر اس كی حيرانگی میں مزيد اضافہ ہوا اوراس نے كہا میںچاہتا ہوں كہ آپ ہمارے ليئے اسكی تفصيل اور وضاحت كریں ۔
شيخ مفيد نے كہا
قران
یہ بات ثابت ہے كہ قران كريم عربی زبان اور اس كے قواعد كے مطابق نازل ہوا ہے۔ارشاد خدا ہے
﴿قرآناً عربياًغير ذی عوج﴾
( الزمر۲۸)
ہم نے صاف اور سليس )ايك عربی قران (نازل كيا) جس میں ذرا بھی كجی (پيچيدگی)نہیں
دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
’’ و ما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ ليبين لھم ‘‘
( ابراہيم ۴)
ہم نے كسی قوم میں رسول نہیں بھيجا مگر اسی قوم كی زبان میں بھيجا تا كہ وہ ( رسول ) ان كے لیے وضاحت كر سكے ۔
پھرسورہ بقرہ میں طلاق كے احكام بيان كرتے ہوئے فرماتا ہے:
﴿الطّلاق مرتان فامساك بمعروف او تسريح باحسان﴾
(بقرہ ۲۲۹)
ترجمہ :طلاق(رجعی جس كے بعد رجوع ہو سكتا ہے)دو ہی مرتبہ ہے اسكے بعد يا تو شريعت كے مطابق روك ہی لينا چاہيئے يا حسن سلوك سے (تيسری دفعہ)بالكل رخصت۔
اس آيت میں ’’تسريح باحسان ‘‘تيسری طلاق كی جانب اشارہ ہے ۔
ہم ديكھتے ہیں كہ جب طلاق دينے والا ’’انت طالق ‘‘ كہتا ہے تو اس نے ايك جملہ كہا ہے اور ايك دفعہ طلاق دی ہے جب اس جملہ كے بعد لفظ ’’ثلاثاً‘‘ كہتا ہے تو یہ( ثلاثا) تين حال سے خالی نہیں ہے كيونكه اس سے گزشتہ زمانے ياآنے والے زمانے يا موجودہ زمانے كی طرف اشارہ ہے۔
۱:اگر اس ثلاثاً ( تين ) كے ذريعہ گزشتہ زمانہ كی خبر دی ہے تو طلاق اسلئے نہیں ہوئی كيونكہ اس نے جمله موجودہ زمانے میں كہا ہے اور صرف ماضی كی خبر دی ہے۔(جبكہ اس نے ماضی میں كوئی طلاق نہیں دی اور یہ جھوٹ ہے)
۲: اگر یہ كہا جائے كہ اس كے ذريعہ آئندہ كی تين طلاقوں كی خبر دی ہے تو ضروری ہے كہ اس سے بھی طلاق واقع نہ ہو یہاں تك كہ اس كا وقت آجائے پھر وہ كہنے كے مطابق اسے تين طلاقیں دے۔
۳:جب یہ دو قسمیںصحيح نہ ہوئیں تو اب صرف زمانہ حال والی ايك قسم رہ گئی ہے۔ اس صورت میں بھی تين طلاقیں صحيح نہیں كيونكہ زمانہ حال ( موجودہ زمانے )میں تو اس نے صرف ايك دفعہ انت طالق كہا ہے اور ايك كو كبھی بھی تين نہیں كہتے چونكہ بولا گيا جملہ ايك طلاق كو بيان كرتا ہے اسی لئے ہم نے اس كو ايك طلاق شماركيا اور جو كلام میں لغو تھا اس(ثلاث) كو ہم نے چھوڑ ديا ہے كيونكہ قرآن كی زبان كے مطابق درست نہیں اور اس كے احكام كے مخالف ہے۔
سننت سے دليل :
رسول اكرم ص كا ارشاد ہے ’’ كل ما لم يكن علی امرنا ھذا فھو رد ‘‘(۱)
جو (چيز) بھی ہمارے امر كے مطابق نہ ہو اس كو چھوڑديا جائے
اور آپ ص نے فرمايا كہ
’’ ما وافق الكتاب فخذوہ و ما خالفہ فاطرحوہ ‘‘ (۲)
جو موافق كتاب ہے اس كو لے لو اور جو مخالف كتاب ( قرآن ) ہو اس كو چھوڑ دو ۔
ہم نے بيان كيا ہے كہ ايك دفعہ دی جانے والی طلاق ايك دفعہ ہی شمار كی جاتی ہے اسے دو دفعہ يا تين دفعہ نہیں كہا جاتا ۔لہذا طلاق مذكور مخالف قرآن ہے اورسنت كی رو سے مخالف قرآن باطل ہے پس طلاق مذكورہ سنت كی رو سے بھی باطل ہو گئی۔
اجماع سے دليل :
تمام اس پر متفق ہیں ہر وہ چيز جو مخالف قرآن و سنت ہو وہ غلط ( باطل ) ہے اور ہم نے اس كے كتاب و سنت كے مخالف ہونے كوبيان كر ديا ہے پس اجماع حاصل ہو گيا كہ تين طلاقیں درست نہیں ۔
قول امير المؤمنين علی ع:
حضرت سے یہ خبر مستفيض نقل ہوئی ہے كہ آپ نے فرمايا
’’اياكم و المطلقات ثلاثا فی مجلس واحد فانھن ذوات ازواج‘‘(۳)
ايسی عورتوں سے شادی كرنے سے بچو جن كو ايك مجلس میں تين طلاقیں دی گئیں ہوں كيونكہ وہ شوہر دار عورتیں ہیں ۔
قول ابن عباس :
تم اس قوم ( جماعت ) پر تعجب نہیں كرتے كہ جو ايك عورت كو مرد كے لیے حلال سمجھتی ہے جب كہ وہ اس مرد پر حرام ہوتی ہے اور(اسی طرح) وہ (قوم ) عورت كو مرد كے لیے حرام سمجھتے ہیں جب كہ وہ اس كے لیے حلال ہوتی ہے ۔ لوگوں نے سوال كيا وہ كون سی قوم ہے ؟ ابن عباس نے جواب ديا یہ وہ لوگ ہیں جو ايك مجلس میں تين طلاقیں كہہ كر اپنی بيوی كو اپنے اوپر حرام قرار ديتے ہیں ۔
قول عمر بن خطاب :
كسی اختلاف كے بغير اس بات كو نقل كيا گيا ہے كہ ’’ حضرت عمر بن خطاب كے پاس ايك ايسے مرد كو لايا گيا جس نے ايك مجلس میں تين طلاقیں دیں تھیں۔ انہوں نے اس عورت كو اس مرد كے ساتھ بھيج ديا اسی طرح پھر ايك دفعہ ايك اور مرد كو لايا گيا جس نے پہلے مرد كی طرح ايك ہی مجلس میں تين طلاقیں دیں تھیں لہذا انہوں نے اس عورت كو اس مرد سے جدا كرنے كا حكم ديا جب حضرت عمر سے ان دو مختلف حكموں كے بارے میں پوچھا گيا تو انہوں نے جواب ديا كہ میں نے كتاب خدا كے حكم كے مطابق عمل كرنے كا ارادہ كيا تھا ليكن میں نے نشہ میں مدہوش اور سركش لوگوں كے اس عمل كو بار بار انجام دينے كے ڈر سے قرآن كے مطابق حكم نہیں ديا ۔
پس حضرت عمر بن خطاب نے ا عتراف كيا ہے كہ وہ عورت كہ جسے تين طلاقیں دی گئیں ہوں اسے اس كے شوہر كی طرف پلٹانا قرآن كے حكم كے مطابق ہے ليكن انہوں نے اپنے اجتہاد اور استحسان سے كام ليتے ہوئے اس عورت كو جدا كر ديا پس ہم نے حضرت عمر كے قول سے حكم قرآن پر عمل كيا اور ان كی رائے كو چھوڑ ديا ۔ حاضرين میں سے كسی نے كچھ نہ كہا اور اس كے بعد دوسری باتوں میں مشغول ہوگئے ۔
( الفصول المختار ۃ۱۷۵)
(۱)۱: صحيح بخاری ج ۳ كتاب البيوع باب كم يجوز الخيار ص۲۴،كتاب الشہادات كتاب الصلح ص۱۶۷ ؛صحيح مسلم ج ۵كتاب الاقضیہ باب كراہت قضاء القاضی ص132

(۲):الكافی ج ۱ ص ۶۹

(۳) اس كے متعلق حضرت رسول خدا ص ،حضرت علی ع حضرت امام جعفر صادق ع اورحضرت عبد اللہ ابن عباس رض سے روايات نقل ہوئیں ہیں مثلاً النوادر ،احمد بن عيسی الاشعری م ت۲۶۰ھ ص۱۰۷ح۲۶۱ ،۲۶۳؛مستدرك الوسائل ج۱۵ ص۳۰۲ ح ۱۸۳۱۸ ؛فروع الكافی ج۵ ص۴۲۴؛تحف العقول ص۴۲۰؛دعائم الاسلام قاضی نعمان م ت ۳ ۳۶ص ۲۶۳ ح ۱۰۰۱؛الخصال صدوق م ت ۳۸۱ ص۶۰۷۔
شيخ مفيد’’ مسائل صاغانیہ ‘‘ میں فرماتے ہیں كہ منصور كی حكومت كے زماے میں اہل سنت كے شيخ حجاج ابن ارطاه اسكی جانب سے قاضی مقرر رہے وہ بھی ايك مجلس میںدی جانے والیں تين طلاقوں كے قائل نہیں تھے اور اس كے دور میں عراق ،حجاز اور بنی عباس كے تمام عمال اس كے پابند تھے۔ اس كی تائيد احكام القرآن ج۱ ص۴۷۰پر ابو بكر رازی جصاص كے بيان سے بھی ہوتی ہے اور انہوں نے محمد بن اسحاق سے بھی اسی بات كو نقل كيا ہے اور كہا ہے كہ تين طلاقوں كو حضرت عمر ابن خطاب كے دور تك ايك ہی شمار كيا جاتا رہا اور حضرت عبداللہ ابن عباس بھی طلاق ثلاثہ كو ايك ہی طلاق شمار كرتے تھے ۔
اہل عرب ہوں يا اہل اسلا م كوئی بھی اسكا قائل نہیں كہ اگر كوئی شخص ركوع میں صرف ايك دفعه’’ سبحان ربی العظيم ‘‘كہے اور پھر اس كے بعد ثلاثا كہے( يعنی خود سبحان ربی ...... كو تين بار نہ كہے )يا سجدہ میں كوئی شخص ايك دفعہ’’ سبحان ربی الاعلیٰ وبحمده ‘‘كہے اس كے بعد ثلاثاًكہے كوئی بھی اسے تين دفعہ ذكر شمار نہیں كرتا يا كوئی ايك دفعہ سورہ الحمد پڑھے اور پھر عشره ( دس مرتبہ ) كہے۔ كوئی یہ نہیں كہے گا كہ اس نے سورہ حمد كو دس مرتبہ پڑھا ہے ۔
ساری امت مسلمہ نے اس پر بھی اتفاق كيا ہے كہ اگر لعن كرتے ہوئے كوئی اس طرح گواہی دے’’ اشہد باللہ اربعا انی لمن الصادقين ‘‘ كسی نے اس گواہی كو ۴ دفعہ گواہی شمار نہیں كيا۔ اگر حاجی رمی الجمرہ كے وقت سات كنكرياں ايك ہی دفعہ مارے اس كو سات دفعہ كنكرياں مارنا نہیں كہا جاتا۔ ان سب شرعی مسائل میں ايك دفعہ كو ايك دفعہ ہی كہا جاتا ہے یہ سب اس بات پر دليل ہیں كه ايك دفعہ انت طالق ثلاثاً ايك طلاق ہی ہو گی نہ كہ تين طلاقیں۔ ہر مدبر شخص كے لیے یہ بات روز روشن كی طرح واضح ہے ۔
نظرات بینندگان
captcha