بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" نے " البشائر" سائٹ سے نقل كيا ہے كہ عبدالعزيز بن عبد اللہ آل الشيخ نے ۲۹ اگست كو اس بارے میں كہا كہ خواتين قاريوں كی آواز میں تلاوت قرآن كی ريكارڈنگ اور پھر ان كے بازاروں میں فروخت ہونے كے اچھے نتائج سامنے نہیں آئیں گے اور یہ كام مصلحت كے خلاف ہے۔
انھوں نے مزيد كہا كہ مرد قاريوں كی آواز پر مشتمل قرآن كی كيسٹیں بازاروں میں موجود ہیں جو خواتين كے لیے بھی كافی ہیں لہذا خواتين كی آواز پر مشتمل قرآنی كيسٹوں كی ضرورت نہیں ہے۔ قابل ذكر ہے كہ سعودی عرب كے اسلامی تبليغ میں سرگرم عمل كچھ افراد نے عورتوں كی آواز پر مشتمل قرآنی كيسٹوں اور پھر ان كی فروخت كے بارے میں سوال كیے تھے جن كی سعودی عرب كے مفتی نے مخالفت كی ہے۔
287539