بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق " آيت اللہ مرعشی" لائبريری كے بين الاقوامی تعلقات كے مدير" اوسطی" نے ان محققين كو اس عظيم لائبريری كا مختصر تعارف كرواتے ہوئے كہا كہ " یہ عظيم لائبريری اسلامی خطی كتب اور مكتوب ثقافتی ميراث كا گرانبھا خزانہ ہے۔ جسے مرجع شيعہ " آيت اللہ شہاب الدين مرعشی نجفی" نے ۱۳۶۹ء كو تاسيس كيا تھا۔ اوسطی نے كہا كہ اس لائبريری میں فارسی، عربی ، تركی ، اردو، لاطين، سنسكريت، پہلوی تاتاری، اوستابی، گجراتی، زبانوں میں ۳۷ ہزار جلد كتابوں پر مشتمل ۷۵ ہزار اسلامی اور غير اسلامی علوم كے خطی نسخے موجود ہیں اور یہ دنيائے اسلام كی تيسرے نمبر پر سب سے بڑی لائبريری ہے۔ اوسطی نے آخر میں كہا كہ یہ عظيم لائبريری حجت الاسلام والمسلمين ڈاكٹر سيد محمد مرعشی نجفی كے زيركنڑول ہے اور یہ حجم كے لحاظ سے ايران كی سب سے بڑی لائبريری ہے۔ اور اس كے دنيا كی چار سو لائبريريوں اور ثقافتی مراكز سے تعلقات ہیں۔ ياد رہے كہ الجزائر كے حافظ قرآن " مصطفی كرور" عراق كے قومی قاری" محمد سعيد النعيمی" قرآنی روزنامہ " قطوف" كے چيف ایڈیٹر " محمد رضاالشريفی" بوسينا كےاستاد "يوسف راميچ" تيونس كی انجمن انسان شناسی كے صدر "حسن الشعبانی" ہنگری میں پہلی حزب اسلامی كے بانی " بالاتر میھالفی" البانیہ كی مسجد اہل لبيت ﴿ع﴾ كےانچارج " كمال الدين ركا" لبنان كی جمعيت القرآن كے مدير " محمد كركی" الجزائر كے علوم اسلامی كالج كے قرآن كے استاد اور محقق " عبدالحليم قابہ" اس وزٹ میں شريك تھے۔
292755