بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی " ايكنا'' كی رپورٹ كے مطابق برطانیہ كے اسلامی مركز كے بيانیے میں آيا ہے كہ سورہ آل عمران كی آيت نمبر ۱۰۳ " واعتصموا بحبل اللہ جميعا ولا تفرقوا' میں خداوند تعالی واضح طور پر مسلمانوں كو باہمی وحدت كی دعوت دے رہا ہے جبكہ قرضاوی كا عجيب و غريب قسم كا بيان قرآن كی اس واضح نص كے خلاف ہے۔ اسی طرح اس بيانیے میں آيا ہے كہ مسلمان ، قرضاوی جيسے علماء سے توقع ركھتے ہیں كہ وہ حقيقت اسلام كو بيان كر كے مسلمانوں كو وحدت ويكجہتی كی طرف دعوت دیں اور مسلمانوں كو درپيش چينلز كا مقابلہ كرنے كے لیے مضبوط كریں۔ برطانیہ كے اسلامی مركز كے بيانیے كے دوسرے حصہ میں قرضاوی كے بيان پر افسوس كا اظہار كرتے ہوئے آيا ہے كہ اس بيان سے ۵۰ كروڑ مسلمانوں اور اہل بيت علیہم السلام كے پيروكاروں كی توہين ہوئی ہے۔ برطانیہ كے اسلامی مركز كے بيانیے میں مزيد آيا ہے كہ ہم نے قرضاوی اور ديگر مسلمان دانشوروں كو دعوت دے كر مختلف علمی نشستوں اور سيميناروں كا انعقاد كر كے ہميشہ مسلمانوں كے درميان وحدت و يكجہتی كی بات كی ہے، جبكہ قرضاوی كے غير ذمہ دارانہ بيانات سے ان كوششوں پر پانی پھر گيا ہے۔ اور یہ امت اسلامی كے لیے نقصان دہ ثابت ہو گی۔ اسی طرح اس بيانیے میں سورہ بقرہ كی آيت نمبر ۲۸۵ " آمن الرسول بما انزل الیھ من ربھ والمومنون كل آمن باللہ و ملائكتھ و كتبھ و رسلھ لا نفرق بين أحد من رسلھ و قالوا سمعنا و اطعنا غفر انك ربنا و اليك المصير" كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا گيا ہے كہ یہ آيت كريمہ اس مطلب كو بيان كر رہی ہے كہ قرآن كريم نے ہميشہ آسمانی اديان كے احترام كی دعوت دی ھے اور انبياء الہی كے درميان فرق كاقائل نہیں ہوا ہے۔ عمومی محافل ذاتی اختلافات كو بيان كرنے كی جگہ نہیں ہے۔ اس بيانیے كے ايك اور حصے میں آيا ہے كہ اگرچہ مسلمان علماء كے درميان ذاتی اور جزئی اختلافات پائے جاتے ہیں ليكن عمومی محافل اور میڈيا ان اختلافات كو بيان كرنے كی مناسب جگہ نہیں ہے حتی كہ خود قرضاوی نے بارھا مختلف نشستوں میں اس مسئلہ پر تاكيد كی ہے۔ اس بيانیے كے آخر میں سورہ انفال كی آيت ۴۶ " واطيعو اللہ و رسولہ ولا تنا رعوا فتفشلوا و تذہب ريحكم و اصبروا ان اللہ مع الصابرين" كی طرف اشارہ كرتے ہوئے آيا ہے كہ مسلمانوں كے درميان نفرت كی فضا كو ختم كرنے كے لیے اور دشمنوں كی سازشوں سے مسلمانوں كو نجات دينے كی خاطر دنيائے اسلام كے علماء پر ذمہ داری عائد ہوتی ہےكہ وہ تفرقہ پھيلانے والی تقارير سے دوری اور اتحاد و يكجہتی كے فروغ كےلیے اپنی بيداری كا ثبوت دیں۔ قطر میں مقيم مصر كے عالم دين علامہ يوسف قرضاوی نے گزشتہ ہفتہ ، روزنامہ " المصری اليوم" سے بات چيت كرتے ہوئے شيعوں كو بدعت گزار كہہ كر دعوی كيا تھا كہ شيعہ مالی امداد اور مبلغين كے ذريعے اہل سنت كے درميان تشيع كی ترويج كے لیے كوشش كر رہےہیں۔ قرضاوی كے اس غير ذمہ دارانہ بيان پر دنيائے اسلام كے علماء بالخصوص شيعہ علماء كا شديد رد عمل سامنے آيا ہے اور لبنان كے شيعہ مرجع تقليد علامہ فضل اللہ نے اس بارے میں كہا تھا كہ عرصہ دراز سے شيخ قرضاوی كی یہ عادت بن گئی ہے۔ كہ وہ دو نقاط كے بارے میں بات كرتا ہے ايك یہ كہ شيعہ، صحابہ كے بارے میں نازيبا كلمات استعمال كرتے ہیں اور دوسرا یہ كہ شيعہ، سنی معاشروں میں نفوذ پيدا كر كے اہل سنت كو مذہب شيعہ كی طرف راغب كرنے كی كوشش كرتےہیں۔ تہران میں تقريب بين مذاہب اسلامی كی عالمی كونسل كے سربراہ آيت اللہ تسخيری نے بھی كہا ہے كہ قرضاوی كا بيان مسلمان علماء كی عالمی يونين كے مقاصد كے خلاف ہے اور وہ اس قسم كےاقدامات كر كے امت اسلامی كےاتحاد و وحدت كو خطرے میں ڈال رہے ہیں اسی طرح نجف اشرف كے امام جمعہ " سيد صدالدين قپانچی" نے نماز جمعہ كےخطبوں میں علامہ " يوسف قرضاوی" كو شيعہ علماء سے براہ راست علمی گفتگو كرنے كی دعوت دی ہے اور ان سے مطالبہ كياہے كہ وہ اپنے اعتقادی اور فكری رجحان كو سياسی اختلاف سے دور ركھیں۔
297655