تقريب مذاہب اسلامی كی عالمی اسمبلی كے سيكرٹری جنرل آيت اللہ " محمد علی تسخيری" نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" سےخصوصی بات چيت كرتے ہوئے قرضاوی كے دوسرے بيانیے كہ جس میں انھوں نے كہا تھا كہ روزنامہ " المصری اليوم" نے ميرے كلام كو توڑ مروڑ كر پيش كيا ہے كے رد عمل كو خوش آيند قرار ديا ہے۔ تقريب مذاہب اسلامی كی عالمی اسمبلی كے سيكرٹری جنرل نے كہا كہ ميرا عقيدہ ہے كہ قرضاوی بعض شدت پسند عناصر كی طرف سے دی جانے والی جھوٹی خبروں سے متاثر ہوئے ہیں۔ یہ شدت پسند عناصر نہیں چاہتے كہ امت اسلامی میں وحدت و يكجہتی قائم ہو البتہ حقائق كی تحريف میں روز نامہ نگاروں اور صحافيوں كے كردار سےبھی چشم پوشی نہیں كرنی چاہیے۔ انھوں نے اس بات پر زور ديا كہ علامہ قرضاوی نے وحدت اسلامی كے لیے بہترين اقدامات كیے ہیں اور انھیں تقريب مذاہب اسلامی كے علمبرداروں میں سے كہا جا سكتا ہے ليكن عراق اور لبنان كے افسوسناك اور دلخراش و اقعات كے بعد ان كی جانب سے شيعوں كے بارے میں مشكوك بيانات سامنے آئے ہیں۔ تقريب مذاہب اسلامی كی عالمی اسمبلی كے سيكرٹری جنرل نے كہا كہ قرضاوی كی جانب سے ہم ايسے حالات میں ايسے تعجب آور بيانات كا مشاہدہ كر رہے كہ انھوں نے ہمیں سكھايا تھا كہ دوسروں كو بدعت گزار، كا فر اور فاسق كے القاب سے نہ پكاریں۔ انھوں نے مزيد كہا كہ اگر اہل سنت ، قرضاوی كے قول كے مطابق شيعوں كو ، پيغمبر كی وصيت كے مطابق امام علی ﴿ع﴾ كو جانشين ماننے پر بدعت گزاز كہتےہیں تو شيعہ بھی اہل سنت كو پيغمبر كی وصيت پر عمل نہ كرنے سے بدعت گزار كہہ سكتے ہیں اس صورت میں اختلافات كو ہوا ملے گی۔ آيت اللہ تسخيری نے آخر میں كہا كہ كوئی بھی معتبر شيعہ عالم دين اس تحريف قرآن والی روايت كو قبول نہیں كرتا اور یہ حديث گمراہی اور ضلالت كی دعوت ديتی ہے۔ اور انھوں نے كہا كہ اس مسئلہ كو اچھالنے سےتقريب مذاہب اسلامی كی كوششیں متاثر ہونگی ۔
298864