بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق اسلام آن لائن نيوز سائٹ نے لكھا ہے كہ مظاہرين میں سے ايك خاتون " ماريانہ رمزی" نے بی بی سی كو انٹرويو ديتے ہوئے كہا كہ جمعہ كے دن " امينہ ودود" كی امامت میں ادا كی گئی نماز جمعہ، دين اسلام كے اصولوں كے سراسر خلاف ہے۔ برطانوی مسلمانوں كی انجمن كےنائب صدر مختار بدری نے بھی بی بی سی كو انٹرويو میں كہا كہ امينہ ودود كے نماز جمعہ قائم كرنےپر مسلمانوں كی مخالفت كا معاشرے میں عورت كے مقام سے كوئی تعلق نہیں ہے۔ مسلمان عورتوں كی ايك بھاری تعداد نے " اسلام اور فمينسم "كے عنوان پر منعقد ہونےوالے سيمينار كے باہر دھرنادے كر كہا كہ ہم اسلامی اقدار كی پاسداری اورسنت نبوی (ص) كے دفاع كی خاطر جمع ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے نيويارك میں پہلی دفعہ امينہ ودود كی امامت میں نماز جماعت كی ادائيگی پر بھی اہل سنت كے علماء نےمنفی رد عمل ظاہر كيا تھا۔ اور امينہ ودود كو كافر قرار ديا تھا اور بعض نے اسے اجتہاد سے تعبير كيا تھا۔ علمائے اہل سنت اس بات پر متفق ہیں كہ عورتوں اورمردوں كےمشتركہ اجتماع كی امامت عورت نہیں كروا سكتی اور ايسا كرنا ايك غير شرعی عمل ہے۔
308217