بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" كی رپورٹ كے مطابق كويتی روزنامہ " سياسۃ" نے لكھا ہے كہ اس اجلاس كے شركاء نےمختلف اديان كے پيروكاروں كے مابين ثقافتی تعلقات اور ايك دوسرے كے عقائد كے احترام پر تاكيد كی ہے۔ اور زور ديا ہےكہ اديان كےمقدسات اور مختلف تہذيبوں كی توہين اور اديان كی تعليمات كےتحفظ كو دہشتگری سے ملانا قابل مذمت ہے۔ اس اجلاس كے شركاء نےتمام مسلمانوں سے اپيل كی ہے كہ وہ اپنے مقدسات كے تحفظ بالخصوص بيت المقدس كے تحفظ كے لیے جدوجہد كریں اور اسرائيلی سازشوں كو ناكام بنائیں۔ اس اجلاس میں شريك ممالك كے نمائندگان اور اداروں سے بھی كہا گيا ہے كہ وہ غربت كے خاتمے بالخصوص آفريقہ میں فقرو ناداری سےمقابلہ كےلیے جدوجہد كریں اور جو بھی ظلم اور محاصرہ بين الاقوامی قوانين كے خلاف ہو اس كی مذمت كی جائے۔ اسی اجلاس كےہمراہ اديان كےمابين گفتگو اور تہديبوں كے باہمی تبادل پر بھی مسلمان اور عيسائی دانشوروں نے بات چيت كی اور ساتھ ہی قرآنی اور اسلامی كتب كی نمائش بھی لگائی گئی تھی۔ اس اجلاس میں ۵۰۰ سے زائد مسلمان اور عيسائی دانشوروں اور رہنماوں نے شركت كی جن میں ايران سے آيت اللہ محمد علی تسخيری بھی شامل تھے۔
314024