بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے خبررساں ايجنسی "اصوات العراق" كے حوالے سے كہا ہے كہ بيان میں بحرين كی حكومت كی طرف سے ہونے والی شيعہ علماء ،مفكرين اور عوام كی گرفتارياں اور دوسرے سياسی اقدامات انتہائی قابل افسوس ہیں اور ان سے ملك میں فرقہ وارانہ فسادات كے پھوٹ پڑنے كا خطرہ بھی بڑھ گيا ہے۔ بيان میں گرفتار علماء اور سماجی شخصيات كی فوری رہائی اور قوانين میں تراميم كا مطالبہ كيا گيا ہے۔ شيعہ مركز " القائم" نے بيان میں بحرينی حكومت كی طرف سے شيعوں كے ساتھ سياسی اقتصادی اور اجتماعی سطح پر غير مساوی اورجانبدارانہ رویہ اور مذہبی رسومات كی انجام دہی پر آئے دن پانبدياں ايسی مشكلات ہیں جن سے بحرينی شيعوں كی زندگی متاثر ہو رہی ہے ۔ ياد رہے بحرينی حكومت نے گزشتہ ماہ كی ۲۷ تاريخ كو بحرين كی مسجد امام صادق (ع) كےامام جماعت اور آزاد جمہوری تحريك كےجنرل سيكرٹری حسن مشيمع ، بحرين كے الزہرا انسٹیٹيوٹ كے جنرل سيكرٹری محمد حبيب المقداد ، بحرين كی انسانی حقوق كمیٹی كےچيئرمين اور منامہ شيعہ يونيورسٹی كےپروفيسر عبدالجليل السنكيس اور متعدد بحرينی شيعہ شخصيات كو بحرينی آئين اور حكومت كے خلاف اشتعال انگيز تقرير كرنے پر گرفتار كر ليا تھا۔
358709