بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" كی رپورٹ كےمطابق تہران میں منعقدہ بائيسویں عالمی وحدت كانفرنس كے اختتام پر ايك بيانیہ صادر كيا ہے جس میں اسلامی آگاہی كی ضرورت پر زور ديتے ہوئے اسے دشمنوں كی سازشوں سےمقابلے كے لیے بنيادی عنصر قرار ديا اور كہا گيا ہے كہ مسلمانوں كےفروعی اختلافات كو سياسی اختلافات كا پيش خيمہ نہیں بنانا چاہیے۔ شركاء نے كہا ہے كہ امت اسلامیہ كو آج بڑے چيلنجز كا سامنا ہے جن سےشخصيات ، ثقافت اور دوسرے بنيادی اصول خطرے میں ہیں اور امت اسلامیہ كو پسماندہ ركھنے كے لیے اسلام كی علمی ، اقتصادی اور فوجی طاقت میں شك و ترديد ايجاد كی جارہی ہے اور پوری جدوجہد كی جا رہی ہےكہ مسلمانوں كو مغرب كی تقليد اور مغربی تہذيب سے وابستہ كيا جائے۔ دوسرے طرف سے امت اسلامیہ میں شدت پسندی، فكری جمود، فكری پسماندگی ، جہالت، تعصب اور تنگ نظری پنپ رہی ہے اور دنيائے اسلام كے بعض مقامات پر شخصی مفادات كی خاطر مسائل كو اچھالا جا رہاہے۔ شركاء نے مغربی اور اسرائيلی میڈيا میں بعض مغربی افراد كی طرف سے پيغمبر اسلام (ص) اور اسلام كی توہين كا ارتكاب كرنے كو ان كی واضح نادانی قرار ديا اور كہا گيا كہ پوری دنيا میں اسلام اور پيغمبر اسلام (ص) كی شخصيت كو متعارف كروانے كے لیے بھر پور اقدامات اٹھائے جائیں اور ہر قسم كے مسلمانوں كے اندرونی اختلافات كو بالائے طاق ركھتے ہوئے اتحاد و وحدت كا مظاہرہ كرنے كی تلقين كی گئی۔
3783