بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی" ايكنا" نے مصری روزنامہ " الاخبار" كے حوالے سے رپورٹ دی ہے كہ یہ سيمينار مصر كے تمدن و ثقافت كے تحقيقی گروپ كے تعاون سے منعقد ہوا اور اس میں مسيحی اور مسلمان دانشوروں اور محققين نے شركت كی۔ اس سيمينار میں شركت كرنے والوں نے ايك بيانیہ میں اس بات پر تاكيد كی ہے كہ اديان كے ماننے والوں كے درميان منطقی گفتگو كو رائج ہونا چاہیے اور اختلاف و جھگڑے (جو كہ تعصب و شدت پسندی كا باعث بنتے ہیں) سے پرہيز كرنا چاہیے۔ مصر كے سياسی متفكر " طارق البشری" نے اس سيمينار میں گفتگو كرتے ہوئے اس بات پر تاكيد كی كہ اديان كے ماننے والوں كے درميان تمدن وثقافت اور يكجہتی كيساتھ ساتھ تفرقہ، تعصب اور تبعيض جيسے امور سے پرہيز كرنا چاہیے ۔ الازہر يونيورسٹی كے شعبہ اسلامی فقہ و فلسفہ كے استاد احمد عبدالرحيم السايح نے بھی اس سيمينار میں تقرير كرتے ہوئے تاكيد كی كہ اديان كے ماننے والوں كے درميان گفتگو اور مسالمت آميز زندگی كو رائج ہونا چاہیے ۔ اور شہری حقوق ، عدالت اور بيان كی آزادی كی پاسداری اور احترام كرنا پورے معاشرے كے افراد كی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے مزيد كہا كہ تمام آسمانی اديان انسانی اقدار كے حامل ہیں اور وحدت اور دوسروں كے عقائد كا احترام اور تفرقہ سے دوری جيسے امور كی تعليمات ان اديان میں موجود ہیں۔
420598