بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے عالمی روزنامہ "الشرق الاوسط" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ہندوستان كی خواتين كی اسلامی آرگنائزيشنز نے اس مسجد كی تعمير كا مطالبہ كيا تھا جبكہ اس ملك كے مسلمان علماء نے اس مسجد كی تعمير كی مخالفت كی ہے۔
ہندوستان كی مسلمان خواتين كے ذاتی حالات كے قانون كی كونسل كے سربراہ نے اس سلسلے میں كہا ہے كہ اب وہ وقت آ گيا ہے كہ اس ملك كے مسلمان قائدين اور علماء خواتين سے مخصوص مسجد كی تعمير كی اجازت دیں تاكہ وہ نماز جماعت اور دينی محافل كو منعقد كر سكیں كيونكہ قرآن كريم اس بارے میں كوئی منع نہیں كيا گيا ہے۔
ہندوستان كی رياست كرالا كی جماعت اسلامی كے سربراہ نے اس سلسلے میں كہا ہے كہ ہندوستان كی مساجد میں خواتين كی شركت پر كوئی پابندی نہیں ہے۔
فاطمہ موسی نے مزيد كہا كہ قرآن كريم اور احاديث نبوی میں بھی مساجد میں خواتين كے نماز پڑھنے سے منع نہیں كيا گيا ہے اور پيغمبر(ص) نے بھی اس سے منع نہیں كيا ہے۔
494652