ہندوستان كے مسلمان علماء كی خواتين سے مخصوص مسجد كی تعمير كی مخالفت

IQNA

13:38 - November 18, 2009
خبر کا کوڈ: 1851022

ہندوستان كے مسلمان علماء كی خواتين سے مخصوص مسجد كی تعمير كی مخالفت

بين الاقوامی گروپ: كچھ عرصہ پہلے ہندوستان كی خواتين كی اسلامی آرگنائزيشنز كی جانب سے خواتين سے مخصوص مسجد كی تعمير كا مطالبہ كيا گيا تھا جس كی اس ملك كے مسلمان علماء نے مخالفت كی ہے۔

بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے عالمی روزنامہ "الشرق الاوسط" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ ہندوستان كی خواتين كی اسلامی آرگنائزيشنز نے اس مسجد كی تعمير كا مطالبہ كيا تھا جبكہ اس ملك كے مسلمان علماء نے اس مسجد كی تعمير كی مخالفت كی ہے۔
ہندوستان كی مسلمان خواتين كے ذاتی حالات كے قانون كی كونسل كے سربراہ نے اس سلسلے میں كہا ہے كہ اب وہ وقت آ گيا ہے كہ اس ملك كے مسلمان قائدين اور علماء خواتين سے مخصوص مسجد كی تعمير كی اجازت دیں تاكہ وہ نماز جماعت اور دينی محافل كو منعقد كر سكیں كيونكہ قرآن كريم اس بارے میں كوئی منع نہیں كيا گيا ہے۔
ہندوستان كی رياست كرالا كی جماعت اسلامی كے سربراہ نے اس سلسلے میں كہا ہے كہ ہندوستان كی مساجد میں خواتين كی شركت پر كوئی پابندی نہیں ہے۔
فاطمہ موسی نے مزيد كہا كہ قرآن كريم اور احاديث نبوی میں بھی مساجد میں خواتين كے نماز پڑھنے سے منع نہیں كيا گيا ہے اور پيغمبر(ص) نے بھی اس سے منع نہیں كيا ہے۔
494652

نظرات بینندگان
captcha