بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے تركی كی "زينبیہ" مسجد كی سائٹ كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ پاشازادہ نے اس مطلب كی وضاحت كرتے ہوئے كہا ہے كہ عدالت كے اس حكم نے آذربائيجان كے مسلمانوں سے اس سال عيد سعيد قربان كی خوشيوں كو چھين ليا ہے اور یہ اقدام، اعتقادات اور دين اسلام كی اہانت ہے۔
انہوں نے اس سے قبل بھی عدالت كے اس فيصلے پر اپنی مخالفت كا اظہار كرتے ہوئے كہا تھا كہ اس مسجد كے انہدام سے مسلمانوں كے جذبات كو ٹھيس پہنچی ہے۔
ياد رہے كہ مسجد فاطمۃ الزہرا(س) ۱۹۹۸ء كو آذربائيجان كے دارالحكومت باكو میں تعمير كی گئی تھی اور ۲۰۰۹ء میں ادارہ تعميرات نے اس مسجد كی تعمير كو غير قانونی قرار ديتے ہوئے اسے منہدم كرنے كا حكم ديا تھا ليكن موجودہ سال میں اس حكم پر عملدرآمد نہ ہو سكا ليكن آذربائيجان كی حكومت كی اس ملك میں دينی پروگراموں كے مقابلے میں شديد سياست كی وجہ سے اس مسجد كو منہدم كرنے كا موضوع دوبارہ چھڑ گيا ہے اور بہت زيادہ كشمكش كی وجہ سے عدالت نے اس مسجد كے انہدام كے فيصلے پر نظرثانی كا حكم صادر كيا ہے۔
501970