بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ زنجان كی رپورٹ كے مطابق زنجان كی آزادی اسلامی يونيورسٹی كی علمی انجمن كے ركن "علی ہشترودی" نے ۹ جنوری كو زنجان كے دارالقرآن الكريم انسٹیٹيوٹ میں قرآن كريم میں خيروشر كے مصاديق كی بحث كو جاری ركھتے ہوئے قرآن كريم میں شر كے ايك مصداق كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ قرآن كريم نے شر اور برائی كا ايك اہم مصداق "بخل اور كنجوسی" كو قرار ديا ہے اور قرآن كريم كی آيات میں كنجوس اور بخيل لوگوں سے خطاب كرتے ہوئے فرماتا ہے كہ خمس اور زكوۃ ادا نہ كرنے كی صورت میں وہ شر اور برائی كے مصداق ہیں۔
ہشترودی نے قرآن كريم میں شر كا دوسرا مصداق تعقل نہ كرنا قرار ديتے ہوئے كہا ہے كہ خداوند متعال نے سب سے پہلے عقل كو خلق فرمايا اور اسے انسانوں اور حيوانوں كے درميان نقطہ افتراق قرار ديا۔
لہذا قرآن كريم كی آيات میں بارہا بار انسانوں كو تعقل اور تفكر كرنے كی تاكيد كی گئی ہے اور فرماتا ہے كہ ميرے نزديك بدترين افراد گھونگے اور بہرے ہیں يعنی جو لوگ تعقل اور تفكر نہیں كرتے۔
520510