بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" شعبہ اردن نے اردنی روزنامہ "الدستور" كے حوالے سے نقل كيا ہے كہ "خواتين سے امتيازی سلوك" كے عنوان سے منعقد ہونے والی اس تعليمی وركشاپ میں معاشرے میں خواتين كی سماجی سرگرميوں كے بارے میں اسلام كے نظریے كا جائزہ ليا گيا ہے۔
اردن كی "يرموك" يونيورسٹی كے تربيت كالج كے ايك عہديدار "محمد صوالحہ' نے اس وركشاپ میں خطاب كرتے ہوئے كہا كہ اسلامی ممالك كے سماجی نظام میں عورت كے مقام كو تحفظ عطا ہوا ہے اور اسلامی سماجی نظام میں خواتين سے امتيازی سلوك نہیں كيا جاتا۔ اس كے علاوہ اس وركشاپ كے ايك اور مقرر مشہور النعيمی نے اسلامی شريعت میں مرد اور عورت كے درميان فرق كی وضاحت كی ہے۔
550696