بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی "ايكنا" نے "elmoudjahid"سے نقل كيا ہے كہ شيخ بوعمران نے كونسل كے "اسلام و عقلی علوم، گزشتہ اورحال" كے عنوان سے الجزائر كے دارالحكومت الجزيرہ میں ہونے والی پريس كانفرنس سے خطاب كر رہے تھے۔
انہوں نے پھانسی كی سزا كے كالعدم قرار دينے كے حوالے سے اسلامك كونسل كے قوانين كا قرآن اور سنت پيغمبر(ص) كے ساتھ مطابقت اور اسلام كی معين كردہ سزاؤں پر تاكيد كی۔
انہوں نے كہا كہ لوگ اپنے عقائد كے بيان كرنے میں آزاد ہیں مگر كسی كو اسلام يا مقدسات اسلامی اور قابل احترام دينی شخصيات كی توہين كرنے كا حق نہیں ہے۔
الجزائر كی عوام كے مسلمان ہونے كا كوئی بھی منكر نہیں اور الجزائر كے تمام عوامی انقلاب، اسلام كے نام پر ہے اور یہ شق عقائد كی اصلاح اور اسلام كے حوالے سے غلط تصورات كاجواب ہے اور ان لوگوں كا بھی جواب ہے جو دين اسلام كی توہين كے درپے ہیں۔
انہوں نے آخر میں تاكيد كی كہ سپريم اسلامك كونسل الجزائر حريف كے احترام اور تمدنی روش اور آيات قرآنی كے ساتھ مطابقت كے ہوتے ہوئے باہمی گفتگو كی قائل ہے۔
555086