عراقی رائٹر اور عراق كی حزب اللہ تحريك كے ايك قائد "جمعۃ العطوانی'' نے بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی 'ايكنا" سے بات چيت كرتے ہوئے كہا ہے كہ غزہ كی پتی اور قدس شريف میں مقاومت گروپوں نے مقبوضہ سرزمين كو واپس لينے كے لئے پكا ارادہ كر ركھا ہے۔
ليكن عربوں كا امن اور صیہونی حكومت سے گفتگو كا منصوبہ ان گروپوں كے اس پكے عقيدے كے لئے سم مہلك ہے۔
انہوں نے غزہ كے محاصرہ كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ صیہونی حكومت كی جانب سے غزہ كے محاصرہ سے پہلے بعض عرب حكام كے توسط سے یہ محاصرہ كيا گيا ہے۔
العطوانی نے oic كے فرائض كے بارے میں حضرت آيت اللہ خامنہ ای كی حالیہ گفتگو كی طرف اشارہ كرتے ہوئے كہا كہ حضرت آيت اللہ خامنہ ای كا موقف مسئلہ فلسطين اور قدس شريف كے لئے تھا اور اسلامی جمہوریہ ايران كی یہ شرعی اور سياسی اہميت اور نفوذ فقط ايران كی سرحدوں كے اندر نہیں ہے بلكہ عالم اسلام اور مسلمان ملتیں ولايت فقیہ اور حضرت آيت اللہ خامنہ ای كے وجود مبارك كو عالم اسلام كی وحدت اور قدس كی نجات كا ضامن جانتے ہیں۔
العطوانی نے آخر میں كہا كہ اگر عرب یہودی سازی قدس كے مسئلے پر سنجيدہ ہوں تو انہیں انسانی، قانونی، اخلاقی اور تاريخی لحاظ سے ثابت كرنا چاہیے كہ قدس، مسلمانوں كا پہلا قبلہ اور دارالحكومت ہے اور اس حمايت كا ايك بہترين طريقہ صیہونی حكومت كو تيل كی فراہمی پر پابندی اور اس ناجائز حكومت كے حامی مغربی معاشرون سے تعلقات كو ختم كرنا ہے۔
559667