بين الاقوامی قرآنی خبررساں ايجنسی ايكنا كی رپورٹ كے مطابق مسلمان طلباء كے تيسرے بين الاقوامی قرآنی مقابلوں میں جج كے فرائض انجام دينے والے عراقی استاد حجۃ الاسلام و المسلمين محمد علی الصحاف نے ايكنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصی گفتگو كرتے ہوئے كہا كہ قرآنی مقابلے حافظ يا قاری قرآن كی تربيت نہیں كرتے بلكہ اس قسم كے مقابلے طلباء كی مہارت كا مظاہرہ كرنے كی جگہ ہوتے ہیں اور قاری قرآن اور حافظ در حقيقت تعليمی اداروں میں پروان چڑھتے ہیں لہذا قرآنی سرگرميوں كے فروغ اور نوجوانوں كو حفظ قرآن مجيد اور قرائت كی طرف راغب كرنے كے لیے تعليمی اداروں میں ماہر اساتذہ كے زيرنگرانی قرآن مجيد كی تجويد كی كلاسز كا انعقاد ہونا چاہیے۔
حجۃ الاسلام و المسلمين محمد علی الصحاف نے كہا كہ اعلی تعليمی اداروں میں تجويد قرآن كو بنيادی درس قرار ديكر قرآنی سرگرميوں میں خاطر خواہ اضافہ كيا جاسكتا ہے۔
حجۃ الاسلام و المسلمين محمد علی الصحاف نے اسلامی جمہوریہ ايران كے صدر احمدی نژاد كی جانب سے مسلمان طلباء كی عالمی انجمن كی تشكيل پر مبنی تجويز كو ايك خوش آئند تجويز قرار ديا ہے۔
735333