بيرون ملك قرآنی فيسٹيول كے انچارج عيسی عليزادہ نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ( ايكنا ) كے ساتھ بات چيت كرتے ہوئے اس مطلب كے ضمن میں كہا : بيرون ملك ايرانی طلبہ كے ثقافتی امور چلانے كے لیے كوئی ادارہ قائم نہیں كيا گيا كہ جس كا زبردست نقصان ہو سكتا ہے چونكہ طلبہ ايران سے چلے جانے كے بعد بيرون ملك يونيورسٹيز اور كالجز كے ماحول سے ثقافتی طور پر متاثر ہوتے ہیں كہ جس سے انہیں وطن واپسی پر بعض مشكلات كا سامنا كرنا پڑ سكتا ہے اس لیے مقام معظم رہبری فاؤنڈيشن نے اس سلسلے میں مؤثر اقدامات كیے ہیں ۔
835124