نوظہور عرفان كے دعويدار دين كے انتخاب كو انسان كی پسند كا تابع قرار ديتے ہیں

IQNA

23:45 - January 19, 2012
خبر کا کوڈ: 2259805

نوظہور عرفان كے دعويدار دين كے انتخاب كو انسان كی پسند كا تابع قرار ديتے ہیں

فكر گروپ : حوزہ و يونيورسٹی استاد نے اس بيان كے ساتھ كہ نوظہور عرفان انتخاب دين كو انسان كی مرضی اور جذبات كے تابع قرار ديتے ہیں ، واضح كيا : ان لوگوں كا خيال ہے كہ افراد كے ذوق كے برابر متنوع روحانی فرقے ايجاد كیے جائیں ۔

ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی (ايكنا) كی رپورٹ كے مطابق نوظہور روحانی فرقوں سے متعلق ۹ جلدی كتاب كے مصنف اور استاد حوزہ و يونيورسٹی حجت الاسلام و المسلمين ڈاكٹر محمد تقی فعالی نے "كاذب عرفان كی آفات كی شناخت" كے عنوان سے ادارہ برائے اسٹوڈنٹس قرآنی فعاليات كے زير اہتمام منعقدہ سيمينار سے مفصل خطاب كيا ۔
فعالی نے آج كی دنيا میں رائج عرفانی فرقوں كے نام گنواتے ہوئے خيال ظاہر كيا : آج دنيا میں ان فرقوں كے مختلف نام ہیں كہ جن میں سے اولين اور رائج ترين اسم "كالت" ہے ۔ دوسرا لفظ جو ان فرقوں كے لیے استعمال ہوتا ہے ، «New age movement» ہے يعنی عصر جديد كی تحريكیں ۔
حوزہ و يونيورسٹی كے استاد نے مزيد كہا : ان فرقوں كو عصر جديد كی تحريكیں كہنے كا سبب یہ ہے كہ ان میں سے زيادہ تر دوسری جنگ عظيم كے بعد معرض وجود میں آئی ہیں ، (تاريخ غرب جو قديم يونان يعنی چھ صدی قبل از ميلاد سے شروع ہوتی ہے اور آج تك جاری و ساری ہے اور تقريبا ۲۶۰۰ سال كے عرصے پر محيط ہے ، پر ايك اجمالی نگاہ ڈالنے سے ) پتہ چلتا ہے كہ خود مغربی مفكرين نے یہ تصديق كی ہے كہ غرب كے ۲۶۰۰ سال ايك طرف اور صرف بيسویں صدی دوسری طرف ۔
اس مایہ ناز محقق نے واضح كيا : غربی مفكرين نے ايك مرتبہ پھر اعلان كيا ہے كہ مغربی دنيا كا پچھلا سارا تاريخی ريكارڈ ترازو كے ايك طرف اور بيسویں صدی كا نصف دوم كہ جو پچھلی چھ دہائيوں پر مشتمل ہے ، دوسری طرف ركھا جائے تو اس كا پلڑا بھاری ہے ۔ بيسویں صدی كے نصف اول اور نصف دوم میں دوسری جنگ عظيم كا فاصلہ ہے كہ جو ۱۹۴۶ء میں ختم ہوئی تھی، دوسری جنگ عطيم غرب كے لیے غير معمولی آثار كی حامل تھی ۔
فعالی نے اس بيان كے ساتھ كہ "مجازی اديان" ايك دوسری اصطلاح ہے كہ جو ان فرقوں كے لیے استعمال كی جاتی ہے ، واضح كيا : اولا ان فرقوں كو دين كا عنوان ديا جاتا ہے ، ثانيا كہا جاتا ہے مجازی ، چونكہ ان كی ستر فيصد سے زيادہ سرگرمياں آج كی دنيا میں سائيبر سپيس سے متعلق ہیں ، آج سائيبر سپيس كی دنيا پر حكومت ہے اور انسان "مجازی دنيا" كی جانب تيزی سے گامزن ہیں ۔
انہوں نے واضح كيا : نسل قديم اور نسل جديد میں سے ، نسل جديد تيزی سے سائيبر سپيس كا رخ كر رہی ہے اس لیے ہمارے ملك میں بہت سے نوجوان ان فرقوں اور گروپوں كے جال میں پھنس جاتے ہیں لہٰذا ملك كی نسل جديد پر ان جعلی فرقوں كے اثرات كا گزشتہ نسلوں كے ساتھ كسی طوربھی مقايسہ نہیں كيا جا سكتا ۔
آج كی جوان نسل كو جعلی مذاہب سے خطرہ ہے
انہوں نے ايك اہم نتيجے كی جانب اشارہ كرتے ہوئے خيال ظاہر كيا : اہم نتيجہ یہ ہے كہ آج كی جوان نسل كو ان جعلی مذاہب سے سنگين نوعيت كے خطرات لاحق ہیں ، اور ان كے منفی اثرات قديم نسلوں كے مقابلے میں كہیں زيادہ ہیں ، بالخصوص ايران دوسرے ممالك سے بالكل مختلف ہے اور كئی پہلوؤں سے ايك استثنائی ملك ہے ۔
فعالی نے خيال ظاہر كيا : ايك جہت جو ايران كو ايك ممتاز ملك قرار ديتی ہے، یہ ہے كہ ايران كی تاريخ میں عرفان و روحانيت كا غلبہ ہے ۔ ہر ايرانی جوان كے پاس حافظ كا شعری ديوان ہے اور وہ اس كا مطالعہ كرتا ہے ۔ ايران میں سعدی كی گلستان اور بوستان ، غزنوی كی سنای ، ابو سعيد ابو الخير كی نثر اور خواجہ عبد اللہ انصاری كی مقفع و مسجع نثر معروف و مشہور ہیں ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ ايران كی ثقافت كامل طور پر ايك عرفانی اور روحانی ثقافت ہے ، مزيد كہا : ايرانی جوان عرفانی و مذہبی تاريخ سے مالال مال ہیں ؛ اس لیے ايران میں جوانوں كا عرفان سے لگاؤ ديگر ہمسایہ ممالك كی نسبت كہیں زيادہ ہے یہی وجہ ہے كہ سارے عالم اسلام میں كوئی ايسا ملك نہیں ہے كہ جس میں ايران جتنے عرفانی فرقے اور ٹولے ايجاد ہوئے ہوں ۔
فعالی نے مزيد كہا : دوسری جانب ايران كی ثقافت میں "مُدگرايی" ہے كہ جس كے تحت ہر جديد چيز كو ارزش دی جاتی ہے اگر ان مطالب كو ايك دوسرے كے ساتھ ضم كيا جائے تو ان جديد اديان كے ہمارے ملك میں اثرات كا بخوبی ادراك ہو جائے گا ۔
اس عظيم محقق و دانشور نے اديان مجازی كے كلمہ كی جانب اشارے كے ضمن میں كہا : كبھی ان فرقوں كو كہا جاتا ہے ۔ religious movement» يعنی جديد مذہبی تحريكیں ، كبھی كہا جاتا ہے «New spirituaI movement» جديد روحانی تحريكیں البتہ ايك كلمہ كہ جس پر زيادہ حساسيت ہے وہ «Alternative religious» يعنی بديل اديان ہے ۔
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ آج ان عرفانوں كو دين يا اديان بديل كہا جاتا ہے ، كہا : بديل كا مطلب ہے كہ یہ اديان كے جانشين ہیں ، اب یہاں یہ جائزہ ليا جانا ضروری ہے كہ یہ اديان كس چيز كے جانشين ہیں ، ايك سادہ تحليل كی رو سے ان كتابوں كی روشنی میں جو "كالت" نے تحرير كی ہیں ، سمجھا جا سكتا ہے كہ ان كی نگاہ میں اديان كی دو قسمیں ہیں : پہلی قسم كے اديان وہ ہیں جو سنتی اور قديمی يا اديان ابراہيمی يعنی مسيحيت ، اسلام و یہود ہیں جبكہ دوسری قسم كے اديان كا نام ہے ، اديان جديد ۔
حوزہ و يونيورسٹی استاد كا كہنا تھا : كالت جيسے لوگوں كے پيروكار كہتے ہیں كہ سنتی اديان بالخصوص اسلام پر عمل كی مدت ختم ہو چكی ہے اور ان اديان كے فوائد ختم ہو چكے ہیں ۔ وہ لوگ كہتے ہیں كہ انسان جديد ہو چكا ہے اور جديد انسان كو جديد دين كی ضرورت ہے اور ان كی دليل یہ ہے كہ انسانوں كے نظريات تبديل ہو چكے ہیں لذا دين میں بھی تغيير ضروری ہے ۔
فعالی نے مزيد كہا : اب سوال یہ ہے كہ ان فرقوں كو اديان كا نام كيوں ديا جاتا ہے ؟ اس مطلب میں چند اہم نكتے پنہان ہیں ، نوظہور اديان كے رہنما اظہار كرتے ہیں كہ دين كا انتخاب عقل و عقلانيت كے تابع نہیں ہے ، مسيحی دنيا میں دين كا انتخاب لوگوں كی مرضی اور پسند كے تابع ہے ۔ اس فكر كا سرچشمہ یہ ہے كہ آج مسيحی تعليمات عقلانيت و فلسفہ كے لحاظ سے بند گلی میں پہنچ چكی ہیں ؛ لہٰذا تعليمات اور عقائد كے باب میں استدلالی اور برہانی بحث نہیں كی جا سكتی ۔
انہوں نے زور دے كر كہا : مثال كے طور پر تثليث كا عقيدہ كسی طور بھی عقلی دفاع كے قابل نہیں ہے ، اس لیے جب مسيحی تعليمات كا عقلائی دفاع نہیں كيا جا سكتا تو ضروری ہے كہ كسی دوسرے عنصر كو لايا جائے جو عقلانيت كاجانشين ہو سكے اور یہ عنصر احساس و عواطف كے سوا كچھ نہیں ہے حالانكہ ہماری توضيح المسائل كا پہلا مسئلہ یہ ہے كہ اصول دين میں تحقيق ضروری ہے اور ان كا عقل كی بنياد پر انتخاب كيا جائے كہ جس سے اسلام كے مترقی دين ہونے كا ثبوت ملتا ہے ۔
عرفان كاذب كے مدعی انتخاب دين كو انتخاب غذا كی شبیہہ قرار ديتے ہیں
انہوں نے اس بيان كے ساتھ كہ یہ جملہ آج بعينہ ان كی كتابوں میں ذكر ہوتا ہے كہ دين كا انتخاب غذا كے انتخاب كی مانند ہے ، خيال ظاہر كيا : یہ جملہ يعنی جس دين كا مزہ آئے اسی كو انتخاب كرو ، چونكہ دين ذوق كے تابع ہے اور انسانوں كے ذوق میں تنوع ہے لذا افراد كے تنوی ذوق كے تحت متعدد روحانی فرقے ايجاد كیے جائیں ۔
اس محقق نے زور دے كر كہا : مثال كے طور پر جو لوگ اہل دين ، اہل نماز حتی نماز تہجد كے پابند تھے ، يوگا كی كلاسوں میں شركت كر كے گمرا ہ ہو گئے اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گئے كہ انسان كو جو "يوگا" سے ثمر ملتا ہے ، وہ نماز سے حاصل نہیں ہو سكتا ہے حالانكہ تنہا نماز وہ امر ہے كہ جو انسان كا خدا كے ساتھ عاشقانہ رابطہ ايجاد كرتی ہے ۔
926003
نظرات بینندگان
captcha