تہران میں حزب اللہ لبنان كے نمائںدہ "عبد اللہ صفی الدين" نے ايران كی قرآنی خبر رساں ايجنسی ﴿ايكنا﴾ كے ساتھ خصوصی گفتگو كے دوران حزب اللہ لبنان كے سيكرٹری جنرل "سيد حسن نصراللہ" كی شخصيات كے مختلف پہلؤوں كا جائزہ ليا ہے ذيل میں اس گفتگو كے پہلے مرحلے كو مختصر طور پر پيش كياجاتا ہے جو سيد حسن نصر اللہ كی قرآنی تعليمات سے اثر پزيری ، قومی مسائل پر توجہ كے ساتھ ساتھ دين مبين كی پابندی ، تقريب بين مذاہب اسلامی میں انكے مؤثر كردار اور خطے بالخصوص بحرين اور سعودی عرب كی اسلامی تحريكوں پرمقامت اور سيد حسن كے مثبت اثرات پر مشتمل ہے :
ايكنا : تقريب بين مذاہب اسلامی اور فرزندان اسلام كے درميان وحدت و يكجہتی میں سيد حسن نصر اللہ كے كردار كے بارے میں آپ كا كيا خيال ہے ؟
عبد اللہ صفی الدين : سيد حسن نصر اللہ ايك ناياب اور رہنما شخصيت ہیں جنہوں نے عالم اسلام اور عرب اقوام پر گہرے اثرات مرتب كیے ہیں اور وہ امت اسلامیہ كی مشكلات كا اصل منبع فلسطين میں اسرائيل كے ناپاك وجود كوقرار دتیے ہیں ليكن اس كے ساتھ ساتھ اس بات پر زور ديتے ہیں كہ آج مسلمانوں كی سب سے اہم ترين مشكل عالم اسلام كی صفوں میں فرقہ بندياں اور مذہبی اختلافات ہیں ۔
1194219