ايران كی قرآنی خبررساں ايجنسی (ايكنا) كے شعبہ قم كی رپورٹ كے مطابق ، آج 6 مارچ كو آيت اللہ مكارم شيرازی نے مسجد اعظم میں اپنے درس خارج كے آغاز میں پاكستان میں جاری شيعہ نسل كشی كی شديد الفاظ میں مذمت كرتے ہوئے كہا : كراچی میں ۱۵۰ كلو وزنی بم دھماكوں كے نيتجے میں ۴۵ سے زائد شيعہ مسلمانوں كی شہادت اور سينكڑوں كا زخمی ہونا كوئی معمولی بات نہیں ہے، لہذا كسی عنوان سے بھی اس مسئلے پر خاموشی اختيار نہیں كرنی چاہيئے۔
انہوں نےمزيد كہا :ہمارے لیے ممكن نہیں ہے كہ اس عظيم مصيبت پر خاموش رہیں اور اس كی پرزور مذمت نا كریں لہذامراجع تقليد نے فيصلہ كيا ہے كہ ہفتے كے دن تمام حوزوی سطح كے دروس كی تعطيل كی جائے گی اور صبح ۱۰ بحے مسجد اعظم قم میں پاكستانی حكمرانوں كو اپنا پيغام پہنچانے اور مظلوم شيعوں كے ساتھ اظہار يكجہتی كے لیے طلبا كا احتجاجی مظاہرہ منعقد كيا جائے گا ۔
آپ نے كہا: ہمارا حكومت پاكستان كو یہ پيغام ہے كہ اگر وہ شہريوں كے جان و مال كا تحفظ نہیں كر سكتی تو حكومت چھوڑ كر مضبوط لوگوں كو اقتدار میں آنے كا موقع دے ۔
اسی طرح آيت اللہ العظمی ناصر مكارم شيرازی نے پوری دنيا كے مسلمانوں سے اس وحشتناك جرم كے خلاف آواز بلندكرنے كی اپيل كی اور فرمايا: مٹھی بھر بے ايمان تكفيری اور وحشی وہابيوں نے دنيا كی یہ حالت بنا دی ہے اور ہر روز بے گناہ لوگوں كے خون سے ہولی كھيل رہے ہیں ۔
1200073