انفاق بارے دس قرآنی نکتے

IQNA

انفاق بارے دس قرآنی نکتے

20:23 - August 14, 2022
خبر کا کوڈ: 3512501
قرآن مجيد لطیف انداز میں انفاق کو خدا کو قرض دینے کے برابر سمجھتا ہے ایسا قرض جو خدا کی طرف سے ادا کی جائے۔

انفاق بارے دس قرآنی نکتے

ایکنا نیوز- تعبير «قرض الحسنه» لطیف اشارہ ہے جب کہ قرض کی مختلف اقسام ہیں جنمیں سے بعض کی کوئی اہمیت نہیں، قرآن مجید نیک قرض کو قابل قدر انفاق کے عنوان سے جانتا ہے اور مختلف آیات میں مفسرین نے اہم نکات میں اشارہ کیا ہے۔

  1. انفاق مال کے بہترین حصے میں سے دیا جاتا ہے نہ کہ معمولی چیزوں سے، لہذا کہا گیا ہے:

«يأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا أَنْفِقُواْ مِنْ طَيّبَاتِ مَا كَسَبْتُمْ وَ مِمَّا أَخْرَجْنَا لَكُم مّنَ الْأَرْضِ وَ لَاتَيَمَّمُوا الْخَبِيثَ مِنْهُ تُنْفِقُونَ وَ لَسْتُمْ‏ بَآخِذِيهِ إِلَّا أَن تُغْمِضُواْ فِيهِ وَ اعْلَمُواْ أَنَّ اللَّهَ غَنِىٌّ حَمِيدٌ(بقره، 267)؛ (اے جو ایمان لائے ہو! جو پاکیزہ مال تم لائے ہواور جو کچھ زمین میں سے نکالا ہے [معدنیات و نبادات]، انفاق کرو؛ اور انفاق کے لیے کم قیمت چیزوں کی طرف مت جاو کہ اگر تم خود لینا چاہو تو اس مال کو قبول نہیں کروگے مگر کراہت اور بیزاری سے اور بیشک خدا بے نیاز اور قابل ستائش ہے۔).

 

  1. ان مال میں سے جو لوگوں کی ضرورت ہو، جیسے کہا گیا: «وَ يُؤْثِرُونَ عَلَى‏ أَنْفُسِهِمْ وَ لَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ»(حشر، 9)؛ (وہ دوسروں کو خود پر ترجیح دیتا ہے، اگرچہ وہ خود ضرورت مند ہو).
  2. ان لوگوں کو انفاق کا مال دے جو سخت ضرورت مند ہو: «لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُواْ فِى سَبِيلِ اللَّهِ»(بقره، 273)؛ ([بہتر ہے آپ کا دیا ہوا] ان ضرورت مندوں کو دیا جایے کو خدا کی راہ میں تنگدست ہو).
  3. انفاق اگر چھپا کر دیا جائے تو بہتر ہے: «وَ إنْ تُخْفُوهَا وَ تُؤْتُوهَا الْفُقَرَاءَ فَهُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ»(بقره، 271)؛ (و اگر مخفی انداز میں ضرورت مندوں کو دو تو بہتر ہے).
  4. هرگز منت اور دل آزادی کے ساتھ نہ ہو: «يَأَيُّهَا الَّذِينَ ءَامَنُوا لَاتُبْطِلُوا صَدَقَاتِكُم بِالْمَنّ وَ الأَذَى»(بقره، 264)؛ (اے ایمان لانے والوں منت جتا کر صدقہ باطل مت کرو).
  5. انفاق اخلاص کے ساتھ ہو: «يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ ‏اللَّهِ»(بقره، 265)؛ (ارو [عمل] جو اپنے اموال خدا کی خوشنودی کے لئے عطا کرے).
  6. اپنے دیے ہوئے مال کو چھوٹا سمجھے گرچہ وہ بڑا ہو: «وَ لَاتَمْنُن تَسْتَكْثِرُ»(مدّثّر، 6)؛ (اور احسان جتا کر ضائع مت کرو).
  7. اپنے عزیز چیزوں میں سے دو: «لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّى‏ تُنفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ»(آل عمران، 92)؛ (‏هرگز نیک کام کی حقیقت کو نہیں پہنچوگے مگر یہ کہ عزیز ترین مال میں سے دیا جائے).
  8. هرگز خود کو مالک حقیقی نہ سمجھے؛ بلكه خود کو واسطہ سمجھے: «وَ أَنْفِقُوا مِمَّا جَعَلَكُمْ مُسْتَخْلَفِينَ فِيهِ»(حديد، 7)؛
  9. اور انفاق حلال اموال میں سے ہو، کیونکہ وہ صرف پاک مال کو قبول کرتا ہے: «إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ»(مائده، 27)؛ ( خدا صرف متقیوں سے قبول کرتا ہے).

* کتاب «اسلام اور عوامی امداد»‏، مصنف ناصر مكارم شيرازى سے لیا گیا اقتباس

نام:
ایمیل:
* رایے:
captcha