خدا عدل و انصاف کیسے قائم کرے گا ؟

IQNA

خدا عدل و انصاف کیسے قائم کرے گا ؟

9:01 - February 28, 2026
خبر کا کوڈ: 3520031
ایکنا: ایک قرآنی محقق نے سورۂ یٰس کی آیات 28 اور 29 کی آیات ظاہر کرتی ہیں کہ ’’مؤمنِ آلِ یٰس‘‘ کے نبی کی شہادت کے بعد اللہ تعالیٰ نے نہ کسی لشکر کے ذریعے اور نہ ہی براہِ راست مداخلت کے ذریعے، بلکہ ایک اچانک اور ہولناک چیخ کے ذریعہ اپنی عدالت نافذ فرمائی۔

اصفہان سے ایکنا کے نمائندے نے اس ماہ کی مناسبت سے جاری گفتگو کے سلسلے میں قرآنی محقق اور علومِ قرآن و حدیث میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر علی‌اکبر توحیدیان سے گفتگو کی۔ اس سلسلے کی نویں نشست میں انہوں نے سورۂ یٰس کی آیات 28 اور 29 کے اعتقادی اور تربیتی پیغامات کا جائزہ لیا، جس کی بنیاد حجۃ الاسلام والمسلمین محسن قرائتی کی تفسیر پر رکھی گئی۔

صیحه کا مفہوم کیا ہے؟

سورۂ یٰس کی آیات 28 اور 29 میں ارشاد ہوتا ہے:

اور ہم نے اس (نبی) کے بعد اس کی قوم پر آسمان سے کوئی لشکر نازل نہیں کیا اور نہ ہم نازل کرنے والے تھے۔ ان کی سزا تو بس ایک ہی ہولناک چیخ تھی کہ اچانک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔

یہ آیات ’’مؤمنِ آلِ یٰس‘‘ کے نبی کی شہادت کے بعد کے واقعے کو بیان کرتی ہیں اور واضح کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانی لشکر نہیں بھیجا، بلکہ ایک ہیبت ناک اور ناگہانی صیحه نے ایک لمحے میں سب کو ہلاک کردیا۔ یہ اس امر پر تاکید ہے کہ عدلِ الٰہی کا نظام عموماً فطری اور تکوینی قوانین کے ذریعے جاری ہوتا ہے، نہ کہ غیر معمولی آسمانی لشکرکشی کے ذریعے۔

مختلف تفاسیر میں ’’صیحه‘‘ کے متعدد معانی بیان ہوئے ہیں:

منهج الصادقین میں آیا ہے کہ جبرئیلؑ نے آسمان پر آکر ایسی ہولناک چیخ بلند کی کہ تمام آوازیں خاموش ہوگئیں۔

تفسیر نمونه میں آیت اللہ مکارم شیرازی نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ یہ شدید زلزلہ ہوسکتا ہے جس کی ہولناک آواز نے سب کو ہلاک کردیا۔

بعض مفسرین نے گرج چمک یا بادلوں کے ٹکراؤ کو بھی اس صیحه کی توجیہ کے طور پر بیان کیا ہے۔

یہ تمام آراء قرآن کے معارف کی وسعت اور لچک کو ظاہر کرتی ہیں۔ قرآن عذابِ الٰہی کی حقیقت بیان کرتا ہے اور ساتھ ہی انسان کو سائنسی اور فطری زاویے سے غور و فکر کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔

اعتقادی اور تربیتی پیغامات

ان آیات سے چند اہم پیغامات اخذ ہوتے ہیں:

فرشتے اللہ کے مطیع ہیں: آیت کا جملہ ’’وَمَا أَنْزَلْنَا... مِنْ جُنْدٍ مِنَ السَّمَاءِ‘‘ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو آسمانی لشکر بھیج سکتا تھا، لیکن اس کی سنت یہ ہے کہ وہ اپنے عدل کو کائنات کے قوانین کے ذریعے نافذ کرتا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی مطلق قدرت بغیر کسی واسطے کے بھی کافی ہے۔

عذابِ الٰہی اچانک آتا ہے: صیحه یک دم واقع ہوئی اور کسی کو تیاری کا موقع نہ ملا۔ یہ انسان کو غفلت سے بچنے کی تنبیہ ہے۔

پیغمبروں کی تکذیب اور مؤمنین کا قتل اجتماعی انجام لاتا ہے: انبیاء اور دین کے مبلغین کی شہادت کبھی کبھی پوری قوم کے لیے عبرت ناک اور سخت نتائج کا باعث بنتی ہے۔

دنیاوی طاقتوں کی کمزوری: جو لوگ بظاہر طاقتور تھے، وہ ایک ہی صیحه سے مٹ گئے۔ ان کا شور و غوغا لمحے میں خاموش ہوگیا۔ یہ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ انسانی طاقت اللہ کے ارادے کے سامنے بے بس ہے۔

یہ آیات انسان کو اللہ کی قدرت، عدل اور سنتِ الٰہی پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں اور خبردار کرتی ہیں کہ ظلم، تکذیبِ حق اور غرور کا انجام اچانک اور فیصلہ کن ہوسکتا ہے۔/

 

4336902

نظرات بینندگان
captcha