
ایکنا نیوز- ’’الجریدہ‘‘ کے حوالے سے خبر ملی ہے، ابو زکریا قرآنِ مجید سے بے پناہ محبت، اس کے نسخوں اور اوراق کی حفاظت و نگہداری، اور کلامِ الٰہی کے احترام و تقدس کے شایانِ شان طرزِ عمل کے باعث معروف تھے۔
صوبہ جرش کے عوام اور سماجی کارکنوں نے اس ستر سالہ شخصیت کے انتقال پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، جو تقویٰ، اخلاص اور کلامِ خدا کی خدمت کے لیے مشہور تھے۔
مرحوم نے اپنے پیچھے ایک عظیم روحانی ورثہ چھوڑا ہے، جس میں ذاتی خرچ اور اپنی جسمانی محنت سے تقریباً دو لاکھ نسخہ ہائے قرآنِ کریم کی مرمت شامل ہے۔
ابو زکریا ایک نیک دل اور فلاحی شخصیت تھے، جن کی خدمات اور کارنامے آج بھی ان کے اخلاص اور کتابِ الٰہی کی خدمت کی روشن دلیل ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی قومی حلقوں اور اسیرانِ فلسطین کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں نے بھی ہفتہ 2 خرداد کو حاج محمد ادریس شراونه، المعروف ’’ابوثائر‘‘ کے انتقال پر سوگ کا اظہار کیا۔ وہ کئی دہائیوں تک فلسطینی اسیران اور شہداء کے حامی کے طور پر معروف رہے اور مغربی کنارے میں مزاحمت کے حق میں منعقد ہونے والی تقریبات اور یکجہتی پروگراموں میں مسلسل شریک ہوتے رہے۔

فلسطینی اسیران کلب کے ڈائریکٹر جنرل امجد النجار نے کہا کہ مرحوم اسیران کے ساتھ وفاداری کی علامت تھے اور ان اولین افراد میں شامل تھے جو اسیران کی حمایت میں ہونے والے دھرنوں اور سرگرمیوں، خصوصاً ریڈ کراس کے دفاتر کے سامنے منعقد پروگراموں میں شرکت کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ قرآنِ کریم، مسجد اقصیٰ کی تصویر، حقِ واپسی کی علامت چابی، اور اسیران و شہداء کی تصاویر رکھتے تھے۔
امجد النجار کے مطابق ابوزکریا صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے حلقوں میں بھی اپنی مستقل، پُرسکون موجودگی کے باعث معروف تھے، کیونکہ وہ ہر احتجاجی یا یکجہتی سرگرمی کے آغاز سے قبل خاموشی اور خشوع کے ساتھ قرآنِ کریم کی تلاوت کیا کرتے تھے۔/
4354259