جنگ کا سایہ اور غزہ عوام کی حج محرومی

IQNA

جنگ کا سایہ اور غزہ عوام کی حج محرومی

8:14 - May 23, 2026
خبر کا کوڈ: 3520244
ایکنا: جہاں مغربی کنارے سے فلسطینی حجاج کے قافلے سعودی عرب روانہ ہوچکے ہیں، غزہ کے باشندے مسلسل تیسرے سال بھی فریضۂ حج کی ادائیگی سے محروم رہ گئے ہیں۔ جنگ، رفح بارڈر کی بندش اور مسلسل محاصرے نے ہزاروں فلسطینیوں کے لیے حج کے سفر کو ایک ناقابلِ حصول خواب بنا دیا ہے۔

ایکنا نیوز- مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب دنیا بھر کے ہزاروں مسلمان فریضۂ حج کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب جانے کی تیاری کررہے ہیں، غزہ کے باشندے ایک بار پھر اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں سے ایک اہم رکن کی ادائیگی کے موقع سے محروم ہیں۔

رفح بارڈر غزہ کے باشندوں کے لیے بیرونی دنیا تک پہنچنے کا واحد راستہ ہے۔ اگرچہ اسے جزوی طور پر کھولا گیا ہے، تاہم اسرائیل اب بھی اس کے ذریعے آمدورفت پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے۔

دنیا بھر سے مسلمان آئندہ دنوں میں حج کی ادائیگی کے لیے مکہ مکرمہ پہنچیں گے، لیکن غزہ کے مسلمان بند سرحدوں، بے گھری، بھوک اور شدید مالی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں۔

غزہ کے مسلمانوں کے لیے حج کا سفر ہمیشہ مشکلات سے بھرپور رہا ہے، کیونکہ اس کے انتظامات پر ہزاروں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ زائرین عموماً بسوں کے ذریعے مصر جاتے اور وہاں سے ہوائی جہاز کے ذریعے سعودی عرب پہنچتے تھے۔

غزہ میں حج اور عمرہ خدمات فراہم کرنے والے افراد بھی شدید بحران کا شکار ہیں۔ بہت سے لوگ اپنا ذریعہ معاش کھو چکے ہیں یا انہیں بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران غزہ میں اسرائیلی نسل کشی نے حج کو ایک روحانی فریضے سے بدل کر ایک ناقابلِ حصول خواب بنا دیا ہے۔

مکہ مکرمہ کا سفر مسلمانوں کے لیے روحانی تازگی، قربانی، اور شفا کا ایک عظیم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اسرائیلی حملوں نے فلسطینیوں کو نہ صرف خوراک، ادویات اور سلامتی سے محروم کیا ہے بلکہ ان روحانی تجربات سے بھی دور کردیا ہے جو برسوں کی وحشیانہ بمباری کے بعد عزتِ نفس، امید اور جذباتی بحالی کا ذریعہ بن سکتے تھے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بہت سے بزرگ افراد، جو برسوں سے مکہ مکرمہ جانے کی آرزو رکھتے تھے، اب جسمانی طور پر اس سفر کے قابل بھی نہیں رہے۔/

 

4353132

نظرات بینندگان
captcha