
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، صدارتی ویب سائٹ کے حوالے سے مسعود پزشکیان کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
قوم عاد نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور کہا: ہم سے زیادہ طاقتور کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ اللہ، جس نے انہیں پیدا کیا، ان سے کہیں زیادہ طاقتور ہے؟ مگر وہ ہماری آیات کا انکار کرتے رہے۔ سورۂ فصلت، آیت 15
تکبر کی ابتدا انسان کے خدا سے دور ہونے اور اپنے خالق سے منہ موڑنے سے ہوتی ہے، کیونکہ گناہ کی بنیاد تکبر ہے، اور جو اس سے چمٹ جائے وہ برائیوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ اسی لیے خدا نے اس پر سخت عذاب نازل کیا اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ خدا نے متکبر حکمرانوں کے تخت الٹ دیے اور ان کی جگہ عاجز لوگوں کو عطا کی۔ انجیل مقدس، یوشع بن سیراخ 10:12-13
عالی جناب پوپ لیون چهاردہم، دنیا بھر کے کیھتولک مسیحیوں کے محترم رہنما
میں آپ کی خدمت میں اپنی گرمجوش اور مخلصانہ سلام پیش کرتا ہوں اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملے کے بارے میں آپ کے اخلاقی، منطقی اور منصفانہ مؤقف پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ یہ حملہ دوسری بار امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان مذاکرات کے دوران، بے بنیاد بہانوں کے تحت، بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے اور اسرائیلی حکومت کی معاونت سے انجام دیا گیا۔
امریکہ اور اسرائیلی حکومت کی اس غیر قانونی جارحیت کے نتیجے میں حضرت آیت اللہ العظمیٰ امام سید علی خامنہای، جو عالم تشیع کے عظیم رہنما تھے، اسلامی جمہوریہ ایران کے متعدد اعلیٰ سیاسی و عسکری عہدیداروں کے ہمراہ شہید ہوگئے۔ اسی طرح 3468 ایرانی شہری، جن میں میناب شہر کے مدرسہ شجرہ طیبہ کے معصوم بچے بھی شامل تھے، شہید ہوئے۔ مزید برآں ہمارے بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا، جن میں اسکول، جامعات، ثقافتی ورثہ، تاریخی عمارتیں، تعلیمی مراکز، مذہبی مقامات جیسے مساجد اور کلیسا، طبی مراکز، کھیلوں کے مراکز، اسپتال، پل، سڑکیں، ریلوے لائنیں، بجلی گھر، آئل ریفائنریز اور پیٹروکیمیکل مراکز شامل ہیں، جو واضح طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
امریکی صدر نے ایک خطرناک اور شرمناک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایران کی تاریخی تہذیب کو تباہ کرکے اسے پتھر کے دور میں واپس لے جانا چاہتے ہیں۔” جیسا کہ آپ نے بھی اشارہ کیا، یہ الفاظ مطلق طاقت کے زعم، غرور، جبر، لالچ اور تنازعات کو بے لگام تشدد کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کی عکاسی کرتے ہیں، جسے انسانی ضمیر نہ سمجھ سکتا ہے اور نہ برداشت کرسکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیلی حکومت کا تباہ کن رویہ اور ان کے غیر قانونی حملے صرف ایران کے خلاف نہیں بلکہ عالمی قانون، بین الاقوامی قوانین، انسانی اقدار اور آسمانی ادیان کی تعلیمات کے خلاف ہیں، اور ظاہر ہے کہ اس خطرناک روش کی قیمت پوری عالمی برادری کو چکانی پڑے گی۔
عالی جناب!
ایران کی قوم، خواہ مسلمان ہوں، عیسائی، یہودی یا زرتشتی، صدیوں سے اپنی قدیم سرزمین میں ایک دوسرے کے ساتھ امن اور سکون سے زندگی گزار رہی ہے اور اپنے ہمسایہ ممالک، خصوصاً خلیج فارس کے جنوبی ساحلی ممالک کے ساتھ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی رشتوں کی بنیاد پر پُرامن بقائے باہمی اور رواداری کا مظاہرہ کرتی آئی ہے۔ تاہم خلیج فارس کے ممالک میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی، جو افسوسناک طور پر حالیہ جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران پر حملے کے لیے استعمال ہوئے، اس بات کا باعث بنی کہ ہمارے مسلح افواج نے دفاع مشروع اور جارحیت کے جواب میں ان ممالک کی سرزمین میں جارح قوتوں کے اہداف اور مفادات کو نشانہ بنایا۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے کبھی اپنے ہمسایوں کی خودمختاری یا سرحدی حدود کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا اور ہم اب بھی اپنے تمام ہمسایوں کے ساتھ بہترین تعلقات اور خطے میں امن، سکون اور خوشحالی کے خواہاں ہیں۔
آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال بھی جارح قوتوں کے غیر قانونی حملوں اور خلیج فارس کے ساحلی ممالک کی سرزمین اور فضائی حدود کو ایران کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کرنے کے ساتھ ساتھ امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف بحری محاصرے کا نتیجہ ہے۔ واضح ہے کہ موجودہ عدم تحفظ کی صورتحال ختم ہونے کے بعد آبنائے ہرمز میں آمد و رفت دوبارہ معمول پر آجائے گی، اور ایران اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ میں محفوظ آمدورفت کے لیے بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں مؤثر اور پیشہ ورانہ نگرانی و کنٹرول کے طریقہ کار نافذ کرے گا۔
اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ وہ مسائل کے حل، حتیٰ کہ امریکہ کے ساتھ بھی، سفارتی اور پُرامن طریقہ کار کا پابند ہے۔ اسی مقصد کے لیے، امریکہ کی بارہا بدعہدیوں کے باوجود، ایران نے پاکستان کی ثالثی کا خیرمقدم کیا اور اسلام آباد مذاکرات میں سنجیدگی اور پیشہ ورانہ انداز میں شریک ہوا۔ امریکہ کے غیر قانونی مطالبات کے مقابل ایران کی استقامت دراصل بین الاقوامی قوانین اور اعلیٰ انسانی اقدار کے دفاع کے مترادف ہے۔ لہٰذا عالمی برادری سے توقع ہے کہ وہ حقیقت پسندانہ اور منصفانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے امریکہ کے غیر قانونی مطالبات اور خطرناک و مہم جوئی پر مبنی پالیسیوں کا مقابلہ کرے۔
میں ایک بار پھر “منصفانہ امن” کے حوالے سے آپ کے مؤقف پر حکومت اور عوامِ ایران کی جانب سے قدردانی کا اظہار کرتا ہوں اور اس بات پر زور امید کرتا ہوں کہ اسلامی جمہوریہ ایران اپنے دفاع کے مشروع حق کو محفوظ رکھتے ہوئے، مسائل کے حل کے لیے مکالمے اور پُرامن، قانونی اور اخلاقی طریقوں سے وابستگی برقرار رکھے گا۔/
4352399