
ایکنا نیوز- الجزیرہ نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ غزہ کے 4 سے 9 سال عمر کے 65 بچیوں اور بچوں نے فلسطینی روایتی لباس پہن کر غزہ کے "غراس" اسکول اور کنڈرگارٹن میں منعقدہ "حاملانِ نور" مہم میں شرکت کی اور اپنے اساتذہ کے سامنے قرآنِ کریم کی آیات زبانی سنائیں۔
بچوں کے ہاتھوں میں ایسے بینرز تھے جن پر قرآنِ کریم سے محبت کا پیغام درج تھا۔ اس روحانی اور تعلیمی ماحول میں ان بچوں نے ایک زندہ تصویر پیش کی جو جنگ اور شدید مشکلات کے باوجود نورِ ایمان سے وابستہ رہنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس محفل میں ایمان اور روحانیت کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ بچوں کے چہروں پر خوشی اور شوق نمایاں تھا، جبکہ اساتذہ اور والدین فخر اور مسرت کے جذبات سے آبدیدہ تھے اور اپنے بچوں کو کتابِ خدا حفظ کرنے کے راستے پر پہلا قدم اٹھاتے دیکھ رہے تھے۔
یہ منظر محض حفظ و تلاوت کی ایک عارضی نشست نہیں تھا، بلکہ اس بچپن کی جیتی جاگتی تصویر تھی جو جنگ، درد اور مصائب کے باوجود ایمان کے نور سے وابستہ رہنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ پیغام بھی دیا گیا کہ قرآن آج بھی نوجوان نسل کے دلوں میں امید اور اطمینان زندہ رکھنے کی طاقت رکھتا ہے۔
روحانی پروگرام “پویش نور” کا مقصد غزہ کے بچوں کے لیے ایک محفوظ، ایمانی اور تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے، تاکہ نئی نسل کو حفظ، تلاوت اور فہمِ قرآن کے ذریعے قرآنِ کریم سے جوڑا جا سکے اور فلسطینی مسلم معاشرے کے لیے بہترین کردار و اخلاق کی بنیاد رکھی جا سکے۔
منتظمین کا کہنا ہے کہ قرآن حفظ کرنے والے بچوں کی حوصلہ افزائی صرف ان کے حفظ کے معیار تک محدود نہیں، بلکہ اس انسان کی تربیت سے متعلق ہے جو اپنے دل میں نورِ ایمان رکھتا ہو اور شفقت، شعور اور ذمہ داری کے ساتھ پروان چڑھے۔ یہ پیغام اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ قرآنِ کریم آج بھی سخت ترین حالات میں امید اور زندگی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔/
4353057