
ایکنا نیوز کی رپورٹ کے مطابق، اسلام میں مناسکِ حج عبادات اور علامتی اعمال کا ایک ایسا مجموعہ ہیں جن میں سے ہر ایک کی اپنی تاریخی جڑیں اور گہرا معنوی مفہوم ہے۔ ان مناسک میں منیٰ اور قربانی کو خصوصی مقام حاصل ہے۔ منیٰ نہ صرف حج کے اہم مقامات میں سے ایک ہے بلکہ اسلامی روایت میں اسے عرفات میں وقوف کے بعد اہم اعمال کی ادائیگی کی جگہ کے طور پر جانا جاتا ہے۔
اسی طرح قربانی بھی حج کے نمایاں شعائر میں سے ہے، جو حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ کی داستان اور حکمِ الٰہی کے سامنے تسلیم و رضا کے مفہوم کی یاد دلاتی ہے۔ منیٰ اور قربانی کی تاریخ کا مطالعہ ہمیں قدیم عربی روایات، اسلام کے بعد مناسکِ حج میں آنے والی تبدیلیوں اور اس عمل کے دینی و سماجی مفاہیم سے روشناس کراتا ہے۔

سعودی کی تاریخ میں منیٰ
صحیفہ مکہ کے مطابق، منیٰ مکہ کے قریب ایک علاقہ ہے جسے قدیم زمانے سے حج کے موسم میں اہمیت حاصل رہی ہے۔ دورِ جاہلیت میں، اسلام کے ظہور سے پہلے، عرب مختلف موسمی رسومات کی ادائیگی کے لیے مکہ کے اطراف میں آتے تھے اور منیٰ ان معروف مقامات میں شامل تھا۔ تاہم اس زمانے میں عربوں کی مذہبی رسومات قبائلی عقائد، بت پرستی اور مقامی روایات سے آمیختہ تھیں۔

اسلام کے ظہور کے بعد، منیٰ کو مناسکِ حج کے نئے نظام میں ایک باقاعدہ مقام حاصل ہوا۔ اسلامی متون میں منیٰ کو رمیِ جمرات، ایامِ تشریق میں قیام، اور قربانی کی جگہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس طرح یہ علاقہ ایک موسمی اور روایتی مقام سے تبدیل ہو کر اسلامی عبادت کا مکمل طور پر متعین حصہ بن گیا۔

قبل از اسلام قربانی کی روایت
اسلام سے پہلے بھی عرب اقوام میں جانور ذبح کرنا اور قربانی دینا ایک معروف عمل تھا۔ یہ قربانیاں عموماً معبودوں یا بتوں کی خوشنودی، نذر و نیاز، اور قبائلی و موسمی رسومات کے لیے پیش کی جاتی تھیں۔

اسلام میں قربانی اور اس کا ابراہیمی تعلق
اسلام میں قربانی کی بنیاد حضرت ابراہیمؑ کی داستان پر قائم ہے۔ قرآنی روایت کے مطابق، حضرت ابراہیمؑ کو اپنے بیٹے کی قربانی کا حکم دیا گیا، لیکن آزمائش کے اس لمحے میں اللہ تعالیٰ نے ان کی قربانی قبول فرمائی اور اسے “ذبحِ عظیم” میں بدل دیا۔ یہی واقعہ حج میں قربانی کی روحانی اساس ہے۔

لہٰذا اسلام میں قربانی صرف ایک جانور ذبح کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ اللہ کے حکم کی اطاعت، نفسانی خواہشات سے آزادی، ایثار و فداکاری، تسلیم و رضا، سماجی ہمدردی اور ضرورت مندوں کی مدد کی علامت ہے۔

اسلام کے بعد مناسکِ حج میں منیٰ کا مقام
عرفات اور مشعر میں وقوف کے بعد حجاج منیٰ جاتے ہیں، جہاں رمیِ جمرات کی جاتی ہے، قربانی ادا کی جاتی ہے، اور حجاج ایامِ تشریق کا ایک حصہ وہاں گزارتے ہیں۔
اس اعتبار سے منیٰ میں قربانی دینا سنتِ ابراہیمی سے وفاداری کی علامت، شرک سے توحید کی طرف تبدیلی کی یادگار، اور عبادت و اطعامِ مساکین میں اجتماعی شرکت کا ایک اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔

عیدِ قربان، جو ہر سال 10 ذوالحجہ کو منائی جاتی ہے، ایک ایسی روایت سے جڑی ہوئی ہے جسے الہامی ادیان میں ایمان کے عظیم ترین امتحانات میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق، عیدِ قربان مکہ مکرمہ میں حج کے عظیم مناسک کے عروج کے موقع پر منائی جاتی ہے اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے یہ دن اللہ تعالیٰ سے قربت حاصل کرنے، ضرورت مندوں کی مدد کرنے اور سماجی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنتا ہے۔ جانوروں کی قربانی، نمازِ عید، اہلِ خانہ اور عزیز و اقارب سے ملاقاتیں، اور محروم طبقات کا خیال رکھنا اس مبارک دن کے نمایاں مظاہر ہیں۔/
4354685