ایکنا نیوز- فلسطین آن لائن کے مطابق، غزہ شہر کے ایک محلے میں جمیل مقداد ہر صبح اپنی چھوٹی سی لکڑی کی میز کے سامنے بیٹھتے ہیں، جس کے اردگرد قرآنِ کریم کے درجنوں پرانے نسخے رکھے ہوتے ہیں۔ ان میں سے بعض جنگ کے دوران پھٹ چکے ہیں، جبکہ کچھ برسوں کے مسلسل استعمال سے بوسیدہ ہو گئے ہیں۔
ان کی میز پر قینچی، ایک چھوٹی آری، گوند کے برتن اور مختلف سائز کے مضبوط گتے کے ٹکڑے موجود ہوتے ہیں۔ یہ جگہ صرف کتابوں کی مرمت کی ایک معمولی ورکشاپ نہیں بلکہ جنگ کی تباہ کاریوں کے مقابلے میں استقامت اور امید کی ایک پُرسکون علامت ہے۔ یہاں پھٹے ہوئے صفحات مزاحمت اور ثابت قدمی کی داستان بن جاتے ہیں، اور جمیل کے ہاتھوں دوبارہ زندہ ہونے والا ہر نسخہ جنگ کے خلاف ایک چھوٹی مگر قیمتی کامیابی تصور ہوتا ہے۔
45 سالہ صحافی کا تجربہ
جمیل مقداد، جو غزہ شہر کے مغرب میں واقع پناہ گزین کیمپ الشاطی ساحلی علاقے میں پیدا ہوئے اور وہیں پروان چڑھے، گزشتہ 45 برس سے کتابوں کی جلد سازی اور صحافی کے شعبے سے وابستہ ہیں۔
جنگ سے پہلے ان کی ایک کتابوں کی دکان اور پرنٹنگ پریس تھا، جس سے وہ اپنے اور اپنے بچوں کا روزگار چلاتے تھے، مگر جنگ کی تباہ کاریوں نے ان کی برسوں کی محنت کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر دیا۔
سرحدی گزرگاہوں کی بندش کے باعث غزہ میں قرآنِ کریم کے نئے نسخے دستیاب نہیں، اس لیے جمیل نے موجودہ نسخوں کو محفوظ رکھنے اور انہیں دوبارہ قابلِ مطالعہ بنانے کو اپنی ذمہ داری بنا لیا۔
وہ ہر روز اپنے معمول کے مطابق ان قرآنِ کریم کے نسخوں کو سامنے رکھتے ہیں جن کے جلد بمباری یا مسلسل استعمال سے خراب ہو چکے ہیں یا جن کے صفحات پھٹ گئے ہیں۔ اس کے بعد وہ صفحات کو ترتیب دیتے ہیں، جلد کے لیے مناسب پیمائش کرتے ہیں، انہیں ہاتھ سے سیتے ہیں اور آخر میں مضبوط گتے سے نئی جلد تیار کرکے انہیں دوبارہ قابلِ استعمال بنا دیتے ہیں۔
رضائے الٰہی کی خاطر خدمت
جمیل مقداد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے گھر اور ذاتی لائبریری سے قرآنِ کریم کے وہ تمام نسخے نکال لیے جو جنگ کے دوران گولوں کے ٹکڑوں سے پھٹ چکے تھے یا وقت گزرنے کے ساتھ بوسیدہ ہو گئے تھے۔ میں نے انہیں اپنی چھوٹی سی میز پر رکھا اور صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ان کی مرمت شروع کر دی، نہ کسی اجرت کی خواہش تھی اور نہ یہ توقع کہ یہ کام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے گا۔
انکا کہنا تھا : وقت گزرنے کے ساتھ پڑوسی بھی اپنے قرآن میرے پاس لانے لگے، جبکہ مساجد نے بھی جنگ سے متاثرہ درجنوں نسخے میرے حوالے کیے۔ یوں میری یہ سادہ سی میز ایک ایسی ورکشاپ میں تبدیل ہوگئی جو کتابِ خدا کو نئی زندگی عطا کر رہی ہے۔
جمیل مقداد کے مطابق ان کا سب سے بڑا مقصد قرآنِ کریم کے موجودہ نسخوں کو ضائع ہونے سے بچانا ہے۔
انکا کہنا تھا :اللہ کی کتاب کو محفوظ رہنا چاہیے، خصوصاً اس وقت جب سرحدی راستے بند ہونے کی وجہ سے غزہ میں قرآنِ کریم کے نئے نسخے نہیں پہنچ سکتے۔ اسی لیے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ جنگ سے تباہ ہونے والے نسخوں کو ضائع ہونے دینے کے بجائے ان کی مرمت اور بحالی کا کام کریں۔
قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جمیل مقداد پیدائشی طور پر دائیں ٹانگ سے معذور ہیں اور مصنوعی ٹانگ استعمال کرتے ہیں، مگر جسمانی مشکلات کے باوجود وہ روزانہ اسی جذبے اور لگن کے ساتھ قرآنِ کریم کی خدمت میں مصروف رہتے ہیں، اگرچہ ان کی جسمانی حالت انہیں طویل وقت تک مسلسل کام کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔/
4363362