ناروے کی اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کی فیفا رکنیت معطل کرانے کی مہم

IQNA

ناروے کی اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کی فیفا رکنیت معطل کرانے کی مہم

7:42 - July 19, 2026
خبر کا کوڈ: 3520469
ایکنا: ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کی فیفا رکنیت معطل اور اس کی قومی و کلب ٹیموں کو بین الاقوامی مقابلوں سے خارج کرنے کے لیے مہم شروع کر دی ہے۔

ایکنا نیوز- العالم نیوز کے حوالے سے روزنامہ پولیٹیکو نے رپورٹ کیا ہے کہ اس مہم کی قیادت ناروے فٹبال فیڈریشن کی صدر لیزے کلاونس کر رہی ہیں، جو ایک قانون دان، ناروے کی سابق خاتون قومی فٹبالر اور یورپی فٹبال ایسوسی ایشن (یوفا) کی ایگزیکٹو کمیٹی کی رکن بھی ہیں۔ انہوں نے یکطرفہ بائیکاٹ کے بجائے فیفا اور یوفا کے باضابطہ فورمز کے ذریعے اس معاملے کو یورپی فٹبال کے فیصلہ ساز اداروں تک پہنچانے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

لیزے کلاونس نے اس سے قبل کہا تھا کہ قوانین کا یکساں نفاذ ضروری ہے، اور ان کے مطابق اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کو معطل کیا جانا چاہیے کیونکہ یہ معاملہ فیفا اور یوفا کے ضوابط پر عمل درآمد سے متعلق ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ فیفا اور یوفا کے قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں پر بحث بند نہیں ہونی چاہیے، اور کھیلوں کے ادارے غزہ میں انسانی مصائب سے لاتعلق نہیں رہ سکتے۔

ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے ورلڈ کپ کوالیفائنگ مرحلے میں اسرائیل کے خلاف میچ کا یکطرفہ بائیکاٹ نہیں کیا، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں نظم و ضبط کے قوانین کے تحت تین پوائنٹس اسرائیلی ٹیم کو مل سکتے تھے، جس سے اس کے اگلے مرحلے میں پہنچنے کے امکانات بڑھ جاتے۔ بعد ازاں ناروے نے یہ میچ 5-0 سے جیت لیا۔

رپورٹ میں یاد دلایا گیا ہے کہ یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد فیفا اور یوفا نے روس کی قومی اور کلب ٹیموں کی رکنیت فوری طور پر معطل کر دی تھی، تاہم غزہ جنگ اور فلسطینیوں کے حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے الزامات کے باوجود اسرائیلی ٹیمیں اب بھی بین الاقوامی مقابلوں میں شریک ہیں۔

فلسطین فٹبال فیڈریشن کی جانب سے دائر کیے گئے مقدمے میں غزہ پر حملوں کے علاوہ فلسطینی اور عرب کھلاڑیوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک اور مغربی کنارے کی غیرقانونی بستیوں میں قائم کلبوں کی اسرائیلی فٹبال لیگ میں شرکت کو بھی بنیاد بنایا گیا ہے۔ اس مقدمے کے حامی قانونی ماہرین کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات فیفا کے انسدادِ امتیاز، انسانی حقوق اور مقبوضہ علاقوں میں کلبوں کی سرگرمیوں سے متعلق ضوابط سے متصادم ہیں۔

پولیٹیکو کے مطابق، اس مہم میں ناروے کی شمولیت کے بعد اسرائیلی فٹبال فیڈریشن کی معطلی کا مطالبہ صرف عرب اور ایشیائی فٹبال فیڈریشنوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ یورپی فٹبال کے ادارہ جاتی ڈھانچے میں بھی ایک سنجیدہ بحث کا موضوع بن چکا ہے۔/

 

4364413

نظرات بینندگان
captcha