ایکنا نیوز- گارڈین کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "محمد" مسلسل تیسرے سال بھی انگلینڈ اور ویلز میں نومولود لڑکوں کے لیے سب سے زیادہ منتخب کیا جانے والا نام رہا ہے۔
سن 2025 کے دوران تقریباً 6 ہزار نومولود بچوں کا نام محمد رکھا گیا، جو دوسرے نمبر پر آنے والے نام "نوح" کے مقابلے میں تقریباً 2 ہزار زیادہ ہے۔ یہ دونوں نام 2023 سے بالترتیب پہلے اور دوسرے نمبر پر موجود ہیں، جبکہ اس سے قبل ان کے درمیان 1,580 ناموں کا فرق تھا۔
اس سال لیو (Leo) اور لوکا (Luca) نے آرتھر (Arthur)، اولیور (Oliver) اور جارج (George) کو پیچھے چھوڑتے ہوئے بالترتیب تیسری اور چوتھی پوزیشن حاصل کر لی۔
لڑکیوں کے ناموں میں اولیویا (Olivia) بدستور پہلے نمبر پر رہی، جبکہ اس کے بعد لِلی (Lily)، امیلیا (Amelia)، آئسلا (Isla) اور فلورنس (Florence) کے نام شامل ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق محمد کا نام 2016 سے مسلسل ٹاپ 10 ناموں میں شامل ہے، جبکہ 1997 میں پہلی مرتبہ یہ ٹاپ 100 ناموں کی فہرست میں شامل ہوا تھا۔
اس نام کی مختلف ہجوں (Spelling) والی صورتیں بھی 1954 میں ٹاپ 100 ناموں میں موجود تھیں، جبکہ "محمد" کی موجودہ املا پہلی بار 1924 میں انگلینڈ اور ویلز کے ٹاپ 100 لڑکوں کے ناموں کی فہرست میں 91ویں نمبر پر شامل ہوئی تھی۔
برطانیہ کے دفترِ قومی شماریات (ONS) کے مطابق نام محمد کی مختلف املا عربی زبان سے مختلف رسم الخط اور لہجوں میں منتقلی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ لڑکوں اور لڑکیوں کے ٹاپ 10 ناموں میں متعدد نام غیر برطانوی اصل رکھتے ہیں، جن میں فریا (اسکینڈینیوین)، لیو، لوکا اور ازابیلا (اطالوی) اور نوح (عبرانی) شامل ہیں۔
اس سے قبل ماہرین یہ بھی بیان کر چکے ہیں کہ "محمد" نام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی ایک اہم وجہ برطانیہ میں مسلم آبادی میں اضافہ ہے۔ برطانیہ میں مسلمانوں کی تعداد تقریباً 40 لاکھ ہے، جو ملک کی کل آبادی کا لگ بھگ 6 فیصد بنتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق محمد آج بھی برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے درمیان سب سے پسندیدہ ناموں میں شمار ہوتا ہے، خصوصاً ایسے خاندانوں میں جو اپنی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ ساتھ ہی مجموعی طور پر نومولود لڑکوں کے ناموں میں تنوع بھی مسلسل بڑھ رہا ہے۔/
4363640