ایکنا نیوز- خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا کہ فادی حمد اللہ النسان، جو کلب المغیر کے کھلاڑی اور فلسطین کی قومی انڈر 17 فٹبال ٹیم کے رکن تھے، کی نمازِ جنازہ میں درجنوں افراد نے شرکت کی۔ ان کا جسدِ خاکی رام اللہ کے فلسطین میڈیکل کمپلیکس سے ان کے آبائی گاؤں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔
فلسطینی فٹبال فیڈریشن کے مطابق، 11 جولائی کو جب صہیونی آبادکاروں نے گاؤں المغیر پر حملہ کیا تو اسی دوران اسرائیلی فورسز نے فادی النسان پر فائرنگ کی۔
فیڈریشن کے بیان میں کہا گیا ہے کہ فادی کی ران میں گولی لگی تھی۔ ڈاکٹروں نے ان کی جان بچانے کے لیے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی، تاہم وہ شدید زخموں کی وجہ سے جانبر نہ ہو سکے اور شہید ہوگئے۔
فادی کے والد حمد اللہ النسان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: وہ فٹبال سے بے حد محبت کرتا تھا اور ہر شخص اسے پسند کرتا تھا۔ جب آبادکاروں نے حملہ کیا تو اس نے خواتین اور بچیوں کی چیخ و پکار سنی۔ وہ ان کی مدد کے لیے جائے وقوعہ کی طرف گیا اور وہیں شہید ہوگیا۔
ان کی والدہ حنان النسان نے کہا: فادی ایک اچھا طالب علم، کامیاب کھلاڑی اور فٹبال کا شیدائی تھا۔ سب لوگ اس سے محبت کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ اسے شہداء میں بلند مقام عطا فرمائے۔
اے ایف پی کی جانب سے فلسطینی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے حوالے سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور صہیونی آبادکاروں کے ہاتھوں کم از کم 1,088 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
4364809