ایکنا نیوز- اسلام سٹی نیوز کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 2026 فیفا ورلڈ کپ کے فائنل میں اسپین کی ارجنٹینا کے خلاف فتح نہ صرف ایک شاندار کھیلوں کی کامیابی کے طور پر یاد رکھی جائے گی بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں شائقین کے لیے اخلاقی اہمیت کے حامل ایک تاریخی لمحے کے طور پر بھی ہمیشہ یاد رہے گی۔
عالمِ اسلام میں بہت سے شائقین نے فلسطینی مزاحمت کے حوالے سے اسپین کے اصولی مؤقف کی وجہ سے اس ٹیم کی بھرپور حمایت کی۔ اسپین نے مئی 2024 میں باضابطہ طور پر ریاستِ فلسطین کو تسلیم کیا تھا اور متعدد مواقع پر امن، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد اور بین الاقوامی قوانین کے احترام پر زور دیا۔ اسپین کے اس مؤقف نے اسے کئی دیگر یورپی ممالک سے ممتاز کیا اور مسلم اکثریتی ممالک میں اسے وسیع پیمانے پر سراہا گیا۔
اسپین کی اس کامیابی کے بعد مشرقِ وسطیٰ، شمالی افریقہ، جنوبی ایشیا اور دیگر خطوں میں "لا روخا" (ہسپانوی قومی ٹیم) کی حمایت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بہت سے لوگوں کے لیے اسپین کی حوصلہ افزائی محض فٹبال سے وابستہ نہیں تھی بلکہ یہ اس ملک کے لیے اظہارِ تشکر بھی تھا جس نے ان کے نزدیک فلسطینی عوام کے حقوق اور انسانی وقار کے حق میں کھل کر آواز اٹھا کر جرات مندی کا مظاہرہ کیا۔
دوسری جانب ناروے نے بھی یہ ثابت کیا کہ فٹبال انسانی ہمدردی کی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہو سکتا ہے۔ ناروے کی فٹبال فیڈریشن نے صہیونی ریاست کے خلاف ورلڈ کپ کوالیفائنگ میچ سے قبل اعلان کیا کہ اس مقابلے سے حاصل ہونے والی آمدنی ڈاکٹرز ودآؤٹ بارڈرز (Médecins Sans Frontières) کے ذریعے غزہ میں انسانی امداد کے لیے عطیہ کی جائے گی۔ فیڈریشن کے حکام نے کہا کہ وہ شہری آبادی کی تکالیف کے سامنے خاموش یا لاتعلق نہیں رہ سکتے۔
کھیل کو سیاسی، ثقافتی اور مذہبی اختلافات سے بالاتر ہو کر انسانوں کو قریب لانے کا ذریعہ ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے کہ کازابلانکا سے لے کر کوالالمپور تک بے شمار شائقین کے لیے اسپین کی عالمی چیمپئن شپ صرف دنیا کی سب سے بڑی فٹبال ٹرافی جیتنے کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ ایسے ملک کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا موقع بھی تھا جس نے فلسطین کو تسلیم کرنے اور انصاف کی حمایت کے ذریعے فٹبال کے میدان سے بڑھ کر بھی احترام حاصل کیا۔/
4365049