ملایشیاء میں روہنگیا کے خلاف پروپگینڈا

IQNA

ملایشیاء میں روہنگیا کے خلاف پروپگینڈا

8:19 - July 21, 2026
خبر کا کوڈ: 3520481
1
ایکنا: ملائیشیا میں روہنگیا مسلمانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات میں اضافہ دیکھا جارہا ہے۔

ایکنا نیوز- وصل ویب سائٹ کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ مہینوں میں ملائیشیا میں روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہمات میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور محققین نے خبردار کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نفرت آمیز بیانیہ 2017 میں میانمار میں روہنگیا کے خلاف نسلی تطہیر سے قبل چلائی جانے والی نفرت انگیز مہم سے تشویشناک حد تک مشابہت رکھتا ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ فضا نہ صرف روہنگیا پناہ گزینوں کی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ آن لائن نفرت انگیزی کو حقیقی دنیا میں تشدد اور جسمانی حملوں میں تبدیل ہونے کا راستہ بھی ہموار کر سکتی ہے۔

دی ڈپلومیٹ میگزین کی رپورٹ کے مطابق، روہنگیا پناہ گزین طویل عرصے سے مسلم اکثریتی ملک ملائیشیا کو جنوب مشرقی ایشیا میں اپنے لیے سب سے زیادہ پُرآسرا اور خوش آمدید کہنے والے ممالک میں شمار کرتے تھے، لیکن یہ احساس اس وقت متاثر ہوا جب عیدالاضحیٰ کے دوران سلایانگ کے علاقے میں قربانی کے جانور ذبح کرنے کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ان کے خلاف شدید مہم شروع ہوگئی۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر روہنگیا مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کی ایک مہم چلائی گئی، جس نے حذف کیے جانے سے قبل لاکھوں کے قریب حمایت حاصل کی اور اس پر سیکڑوں ہزار افراد کے دستخط جمع ہوئے۔

روہنگیا حقوق کے کارکن اور روہنگیا رائٹس ریسپونس کے بانی صادق نے بتایا کہ اس مہم کے بعد وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگے ہیں اور اب انہیں اس قدر خوف لاحق ہے کہ وہ عوامی مقامات پر اپنی زبان بولنے یا گھر سے باہر نکلنے سے بھی ہچکچاتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نفرت انگیز بیانات صرف سوشل میڈیا صارفین تک محدود نہیں رہے بلکہ بعض سیاست دانوں، ذرائع ابلاغ سے وابستہ شخصیات اور جامعات کے افراد نے بھی روہنگیا کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی۔

بعض عوامی شخصیات نے روہنگیا مسلمانوں کے لیے تضحیک آمیز الفاظ استعمال کیے، جبکہ چند اخباری مضامین میں پناہ گزینوں کو غیر انسانی انداز میں پیش کیا گیا۔ اسی طرح ایسے سوشل میڈیا پیغامات بھی سامنے آئے جن میں روہنگیا کو ملک سے نکالنے یا انہیں بنیادی حقوق سے محروم کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جسے انسانی حقوق کے کارکن نفرت انگیزی کو جواز فراہم کرنے اور ان کے خلاف حملوں کی حوصلہ افزائی قرار دیتے ہیں۔

روہنگا رائٹس ریسپونس کی جانب سے سوشل میڈیا پر شائع ہونے والی 100 سے زائد پوسٹس کے تجزیے سے معلوم ہوا کہ تقریباً 30 فیصد پوسٹس میں روہنگیا سے متعلق غلط معلومات پھیلائی گئی تھیں، جبکہ 30 فیصد سے زائد پوسٹس میں براہِ راست نفرت انگیز مواد موجود تھا۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد خاص طور پر خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہی تھی۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے یہ شکایت بھی کی ہے کہ میٹا کی جانب سے اشتعال انگیز مواد، خصوصاً مالائی زبان میں شائع ہونے والی پوسٹس، کو حذف کرنے میں سست روی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے، جس سے نفرت انگیز مواد کے پھیلاؤ میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔/

 

4364972

نظرات بینندگان
captcha